خطبات محمود (جلد 23) — Page 300
$1942 300 خطبات محمود گزرے تھے۔میں اس وقت پتھر کے پیچھے چھپ کر بیٹھا ہوا تھا۔میں تلوار لے کر حملہ کرنے کے لئے نکلا تو میں نے دیکھا کہ آپ جا رہے ہیں۔میں نے اس وقت اپنی تلوار کو میان میں کر لیا اور میں نے اپنے دل میں کہا میں اپنے باپ پر کس طرح حملہ کروں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ بیٹا تمہاری قسمت میں ایمان مقدر تھا اس لئے میں نے تجھے اس وقت نہیں دیکھا ورنہ میں تجھے وہیں مار ڈالتا۔تو وہ لوگ اپنی موت یا اپنے رشتہ داروں کی موت کی کوئی حقیقت ہی نہیں سمجھتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ یہاں تقدیر کا سوال ہے اور خد اتعالیٰ کا فیصلہ ایک انقلاب عظیم کے ذریعہ ظاہر ہو چکا ہے اور اس کا منشاء ہے کہ اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالو۔پھر خدا جسے چاہے گا بچالے گا چنانچہ انہوں نے خدائی تقدیر کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال دیا اور انہوں نے اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی کہ ان کی جان جاتی ہے یا ان کے عزیزوں اور رشتہ داروں کی جانیں جاتی ہیں۔یہ موقع بھی ایک عظیم الشان انقلاب کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیاں بتاتی ہیں کہ زمین اس کی قہری تجلیات سے ہلا دی جائے گی، عذاب پر عذاب آئے گا اور انقلاب پر انقلاب واقع ہو گا یہاں تک کہ انسانی قلوب میں دنیا کی محبت سرد ہو جائے گی اور اس کی جگہ خدا کی محبت لے لے گی۔آج تم اپنے چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھو۔کتنے لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔کتنے ہیں جو اس پر سچا ایمان رکھتے ہیں، کتنے ہیں جو ہر وقت اس کی طرف متوجہ رہتے ہیں، نمازیں پڑھنا، چلہ کشیاں کرنا ( اور چلہ کشیوں سے میری مراد پیروں والی چلہ کشیاں نہیں بلکہ اعتکاف میں بیٹھنا اور مساجد میں ذکر الہی کرنا ہے) اسی طرح روزے رکھنا اور صدقہ و خیرات کرنا تو بہت دور کی بات ہے آج جب لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ سینما میں نہ جایا کریں تو انہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ان کی ماں کی موت کی خبر ان کو دی گئی ہے۔قسم قسم کی عیاشیاں اور قسم قسم کے تعیش کے سامان ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں اور لوگ ان کو چھوڑنا ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے جان دے دینا بلکہ میں نے خود کئی لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہمیں مر جانا منظور ہے مگر ہم سینما نہیں چھوڑ سکتے۔یہ بات ہمارے لئے بالکل نا قابل برداشت ہے اور ہم اس کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتے۔اتنے تعیش