خطبات محمود (جلد 23) — Page 297
* 1942 297 خطبات محمود دے دیا اور اسے نہایت عزت کے ساتھ رخصت کیا۔اس کے تھوڑے عرصہ کے بعد اس کا خاوند مر گیا اس وقت وہ نوجوان تھی اور اس کے تین بچے تھے مگر اس نے خاوند کے مرنے کے بعد بڑی محنت کے ساتھ ان کو پالا اور چونکہ اسے اپنے بھائی کا یہ فقرہ بھی پہنچ گیا تھا کہ مجھ پر اگر روئے گی تو میری بہن ہی روئے گی۔اس لئے جب اس کا بھائی مرا تو اس نے اس دن سے اپنے بھائی کے مرثیے کہنے شروع کر دیئے۔یہ مرثیے اتنے درد ناک ہیں کہ آج تک عربی زبان میں تمام مرثیوں کے سرتاج سمجھے جاتے ہیں اور ان کی زبان ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے کہ آج بھی عربی علم ادب کے شائقین ان مرثیوں کو پڑھتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔خنساء کے ان مرثیوں کا اتنا اثر تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا انسان جو قسم قسم کے کاموں میں مشغول رہتا تھا ان مرثیوں کو سن کر بعض دفعہ محو حیرت ہو جاتا تھا۔حضرت عمر کے ایک بھائی جن کا نام غالب زید تھا وہ ایک جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان سے بڑی محبت تھی اور ہمیشہ اپنے بھائی کا ذکر کیا کرتے تھے۔ایک دن خنساء ان کے پاس کسی کام کے لئے آئی تو فرمانے لگے خنساء مجھے اپنا کلام سناؤ۔چنانچہ خنساء نے بعض مرثیے انہیں پڑھ کر سنائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مرثیے سن کر فرمایا۔میرے دل میں کئی دفعہ حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش مجھے بھی شعر کہنا آتا اور میں بھی اپنے بھائی کے ایسے ہی مرثیے کہتا۔خنساء اس وقت مسلمان ہو چکی تھی اور ایمان اس کے دل میں مضبوطی سے گڑ چکا تھا اس نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگی، عمر آپ نے یہ کیا کہا اگر میر ابھائی اس طرح مارا جاتا جس طرح آپ کا بھائی مارا گیا ہے تو خدا کی قسم میں تو کبھی اس کا مرثیہ نہ کہتی۔میں تو اس لئے مرثیے کہتی ہوں کہ میرا بھائی کفر کی حالت میں مرا اور اس نے میرے ساتھ بڑے بڑے احسان کئے تھے۔مجھے افسوس آتا ہے کہ اس نے اپنی دنیا میری خاطر برباد کی اور دین اسے نصیب نہ ہوا ور نہ میرا بھائی اگر آپ کے بھائی کی طرح کسی اسلامی جنگ میں شہید ہو کر مر تا تو میں تو کبھی اس کا مر ثیہ نہ کہتی۔تو اس عورت کے گھر میں بھی اس رات مجلس لگی ہوئی تھی اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو بلایا اور کہا اے میرے بیٹو! تمہیں پتہ ہے کہ تمہارے باپ کا کیا حال تھا۔انہوں نے کہا اماں ہمیں سب کچھ معلوم ہے۔اس نے کہا تم کو پتہ ہے کہ تمہارے باپ کے مرنے کے بعد میں