خطبات محمود (جلد 23) — Page 288
* 1942 288 خطبات محمود فائر بریگیڈ کے سپاہی ہیں۔ہمارے پاس نہ خود ہیں، نہ ویسا لباس ہے، نہ پمپ ہیں، نہ ہمیں آگ بجھانے کا فن آتا ہے۔پھر ہم اس آگ کو بجھانے کے لئے آگے بڑھیں تو کس طرح بڑھیں ؟ تم ہزار دلائل دو اس وقت تمہاری کسی بات کو معقول نہیں سمجھا جائے گا اور تمہیں یہی کہا جائے گا کہ اب خدا کی ایک تقدیر ظاہر ہو چکی ہے تمہیں یہ فن آتا ہے یا نہیں آتا۔تمہارا فرض ہے کہ آگے بڑھو اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اس آگ پر قابو پاؤ۔بے شک اگر اس وقت فائر بریگیڈ میسر آسکتا ہے تو تم فائر بریگیڈ منگوالو۔بے شک اگر آگ بجھانے کا فن سیکھنے کا تمہیں اس سے پہلے کوئی موقع ملے تو تمہیں چاہئے کہ تم اس فن کو سیکھ لو لیکن اگر آگ لگ جائے تو اس وقت ہر شخص کا خواہ اس کے پاس آگ کو برداشت کرنے والا لباس ہے یا نہیں خواہ اسے آگ بجھانے کا فن آتا ہے یا نہیں، فرض ہو گا کہ وہ جائے اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر آگ کو بجھائے۔اسی طرح زمیندار اپنی زمینوں کے لئے لڑتے ہیں اور بسا اوقات ان لڑائیوں میں ان کے کئی کئی آدمی مارے جاتے ہیں۔معمولی سی بٹ کا سوال ہوتا ہے۔صرف اتنا اختلاف ہوتا ہے کہ منڈیر ادھر رکھنی ہے یا اُدھر مگر زمیندار کلہاڑیاں اور چھڑیاں اور دوسرے سامان جو انہیں میسر ہوتے ہیں لے کر آجاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے دشمن کو مار لیاتب بھی ہم پھانسی پر لٹکا دیئے جائیں گے۔کیونکہ ایک منظم گور نمنٹ موجود ہے اور اگر دشمن نے ہمیں مار لیا تب بھی ہم زندہ واپس نہیں جا سکتے۔گویا دونوں صورتوں میں انہیں اپنے سامنے موت دکھائی دیتی ہے مگر باوجود اس بات کے جاننے کے کہ یا تو ہم دشمن کے ہاتھ سے مارے جائیں گے یا گورنمنٹ ہمیں پھانسی دے دے گی پھر بھی وہ پر واہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک قیمتی چیز (جو ان کے نزدیک قیمتی ہے) خطرہ میں ہے۔اب ہمیں اپنی جانوں کی پر واہ نہیں کرنی چاہئے۔یہ وہ منڈیر کی قیمت ہے جو ایک زمیندار کی نظر میں ہوتی ہے۔پھر کیا ہمارے ملک کی قیمت ایک منڈیر کے برابر بھی نہیں کہ اس کے لئے اپنی جانوں کو قربان کرنے سے ہمارے دلوں میں ہچکچاہٹ پیدا ہو۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ کتنے ہی زمیندار ہیں جو ایک منڈیر پر لڑ مرتے ہیں اور اگر کوئی زمیندار منڈیر پر نہیں لڑے گا۔تو جب وہ دیکھے گا کہ اس کی ایک مرلہ زمین پر کوئی اور شخص قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اس وقت وہ چپ نہیں رہے گا اور لڑنے