خطبات محمود (جلد 23) — Page 284
$1942 284 خطبات محمود فرشتوں کو یہی حکم دیتا تھا کہ وہ ان کی جانوں کو بچائیں۔اسی لئے قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ بعض جنگوں میں پانچ پانچ ہزار ملائکہ کو اتار آجاتا تھا۔1 اب ملائکہ کو اتارنے کے یہ معنے تو نہیں کہ وہ تلواریں لے کر آسمان سے اتر آتے اور کفار سے لڑنے لگ جاتے تھے بلکہ اس کا مفہوم یہی ہے کہ وہ کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال کر اور بعض دوسرے ذرائع سے کام لے کر مومنوں کی حفاظت کرتے تھے اور دشمنوں کو ہلاکت کی طرف لے جاتے تھے۔جب تک مسلمانوں کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ تقدیر جاری رہی اس وقت تک ہر قسم کے خطروں میں اپنے آپ کو ڈالنے کے باوجود مسلمان بہت کم مارے جاتے تھے۔رسول کریم علی الیوم کے بعد جو جنگیں ہوئی ہیں ان میں بھی مسلمان بہت حد تک میدان جنگ سے سلامتی کے ساتھ واپس آتے اور بہت کم مارے جاتے تھے حالانکہ ان کا مقابلہ بڑی بڑی منظم اور طاقتور حکومتوں کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔آجکل انگریزوں کی لڑائیاں جو بعض دفعہ سرحد پر ہو جاتی ہیں ان میں انگریزی فوج کے تو ایک دو آدمی مارے جاتے تھے مگر قبائلی لشکر جو ان کے مقابلہ میں آتے ہیں ان کے ہیں ہیں، تیں تیں، چالیس چالیس آدمی مارے جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ انگریزی لشکر کے پاس سامان بہت زیادہ ہو تا ہے، وہی زیادہ منظم اور قواعد دان ہوتے ہیں اور لڑائی کے فن سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔پس زیادہ قواعد دان ہونے کی وجہ سے ، زیادہ منظم ہونے کی وجہ سے، زیادہ ہتھیار رکھنے کی وجہ سے اور تعداد میں بھی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ دشمن کو زیادہ مار لیتے ہیں اور قبائلی لشکر چونکہ چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کے پاس سامان بھی بہت کم ہوتا ہے اس لئے وہ ان کا پوری طرح مقابلہ نہیں کر سکتے۔مسلمانوں کی لڑائیاں جو ایرانی اور رومی حکومتوں سے ہوئیں در حقیقت ایسی ہی تھیں جیسے آجکل قبائلی لشکروں کی انگریزوں سے لڑائیاں ہو جاتی ہیں۔ایک طرف وہ عظیم الشان اور منظم حکومتیں تھیں جن کے قبضہ میں دنیا کا تمام سر سبز و شاداب علاقہ تھا، جن کا دنیا کی تمام پیداوار پر قبضہ تھا، جن کے ماتحت ممالک کے صنعت و حرفت کے مرکز تھے، جو جنگی قومیں کہلاتی تھیں اور جن کے نوجوان پندرہ پندرہ سولہ سولہ سال کی عمر سے ہی فوج میں ملازم ہو جاتے اور دن رات چھاؤنیوں میں فنونِ جنگ سیکھتے رہتے تھے اور باقاعدہ تنخواہ دار ملازم تھے۔