خطبات محمود (جلد 23) — Page 255
* 1942 255 خطبات محمود تو اب اور بھی دتی کے قریب پہنچ گیا ہے۔مگر وہ ہر بار یہی جواب دیتے کہ ہنوز دلی دور است۔آخر اطلاع ملی کہ بادشاہ دتی کے باہر خیموں میں ٹھہرا ہوا ہے اور کل شہر میں داخل ہو گا۔مریدوں نے پھر جرآت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ حضور اب تو اجازت دیں کہ مصالحت کی کوئی کوشش کی جائے مگر انہوں نے کہا ابھی فکر کی کیا بات ہے۔ہنوز دتی دور است۔اس دن بادشاہ کے کامیاب آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑا جشن منایا گیا اور جیسا کہ پرانے زمانہ میں دستور تھا۔امراء شہر کے باہر بھی محل بنوایا کرتے تھے۔ولی عہد کا بھی شہر کے باہر ایک محل تھا۔اس نے بادشاہ سے اپنی دعوت قبول کرنے کی درخواست کی۔بادشاہ نے اس کو منظور کر لیا اور چھت پر جشن کا انتظام کیا گیا۔غالباً گرمی کا موسم ہو گا۔بڑی کثرت سے امراء ورؤساء اس جشن میں شامل ہوئے اور خوب ناچ گانا اور مجر اہوا۔ابھی یہ ناچ گانا ہو ہی رہا تھا کہ یکدم چھت گری اور بادشاہ اس کے نیچے دب کر ہلاک ہو گیا۔حضرت نظام الدین اولیاء کا مقام ایک سچے مومن کا مقام تھا۔انہوں نے خدا تعالیٰ پر توکل کیا اور وہ سمجھتے تھے کہ موت اور حیات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اگر اس کی طرف سے مجھے موت آنی ہے تو مصالحت سے کیا بن جائے گا اور اگر موت نہیں آئی تو بادشاہ کیا اختیار رکھتا ہے کہ وہ مجھے موت کی سزا دے۔اسی طرح اور ہزاروں لوگ ہیں جو دوسروں کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ بچ جاتے ہیں اور مارنے کا ارادہ کرنے والے مر جاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ تدابیر کوئی چیز نہیں۔تدبیریں بھی ضروری ہوتی ہیں مگر وہ عام حالات میں ہوتی ہیں جب عام عذاب آتا ہے تو خدا تعالیٰ موت اور حیات اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس وقت موت سے ڈرنا اول درجہ کی حماقت ہوتی ہے۔صحابہ کو دیکھ لو۔انہیں مارنے کے لئے دشمن نے کتنی کوششیں کیں قریبا تیں چالیس جنگیں ہوئیں مگر سوائے ایک دو جنگوں کے کہ جن میں چند مسلمان قید ہو گئے۔کبھی مسلمان قید نہ ہوئے ورنہ کا فر تو بیسیوں کی تعداد میں قید ہوتے تھے مگر مسلمان ایک بھی قید نہیں ہو تا تھا اور ان کے قید نہ ہونے کے معنے یہی تھے کہ وہ اتنا لڑتے تھے کہ یا تو مارے جاتے تھے یا فتح حاصل کر لیتے تھے گویا موت سے نڈر رہنے کی وجہ سے وہ قیدی نہیں بنتے تھے اور یہی چیز ان کے غلبہ کا موجب بن گئی مگر کافر ہمیشہ قیدی بننے کو ترجیح دیتے اور جب بھی دیکھتے کہ ان کا پہلو لڑائی میں "