خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 25

$1942 25 خطبات محمود موقع پر گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے تھے اور آپ نے فرمایا کہ آج جمعہ نہیں ہو گا کیونکہ ہم سفر پر ہیں۔ایک صاحب جن کی طبیعت میں بے تکلفی ہے وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ سنا ہے حضور نے فرمایا ہے آج جمعہ نہیں ہو گا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول یوں تو اُن دنوں گورداسپور میں ہی تھے مگر اس روز کسی کام کے لئے قادیان آئے تھے۔ان صاحب نے خیال کیا کہ شاید جمعہ نہ پڑھے جانے کا ارشاد آپ نے اس لئے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب یہاں نہیں ہیں۔اس لئے کہا کہ حضور مجھے بھی جمعہ پڑھانا آتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں آتا ہو گا مگر ہم تو سفر پر ہیں۔ان صاحب نے کہا کہ حضور مجھے اچھی طرح جمعہ پڑھانا آتا ہے اور میں نے بہت دفعہ پڑھایا بھی ہے۔آپ نے جب دیکھا کہ ان صاحب کو جمعہ پڑھانے کی بہت خواہش ہے تو فرمایا کہ اچھا آج جمعہ ہو جائے۔تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو سفر کے موقع پر جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی۔اور جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے تو میں پہلی سنتیں پڑھا کرتا ہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں کیونکہ وہ عام سنن سے مختلف ہیں اور وہ جمعہ کے احترام کے طور پر ہیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آج بارش ہو رہی ہے۔زمیندار بارش کے لئے بہت تڑپ رہے ہیں کیونکہ اس کے نہ ہونے سے غلہ میں کمی ہو جاتی۔پچھلے سال بھی غلہ کم ہو ا تھا اور آجکل بہت گراں ہے اور ایسے وقت میں بارش بہت مفید ہے۔گو ایک ہفتہ قبل بھی کچھ بارش ہو گئی تھی مگر وہ پوری نہ تھی آج بہت اچھی ہو گئی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مگر اس کے ساتھ دیکھ لو کچھ تکلیف بھی ہے۔نمازیں جمع ہوں گی۔پھر میں نے اعلان کر دیا ہے کہ جو دوست اپنے اپنے محلوں میں جمعہ پڑھنا چاہیں پڑھ لیں۔ہاں جو شوق سے یہاں آنا چاہیں اور آسکتے ہوں وہ آجائیں۔بہت سے بوڑھوں، بچوں، کمزوروں اور کام والوں نے اپنے اپنے محلہ میں ہی پڑھا ہے اور جو تندرست تھے، آسکتے تھے یا جن کے پاس کافی کپڑے تھے وہ یہاں آگئے ہیں۔پھر بارش ہو رہی ہے ، پانی ہے اور اگر چہ ہماری شریعت نے ہر موقع کے لئے سہولت پیدا کر دی ہے اور اجازت دی ہے کہ جگہ کی تنگی کی صورت میں