خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 246

* 1942 246 خطبات محمود کہ گورنمنٹ نے جو انتہائی قیمت مقرر کر رکھی تھی اس حد کو پہنچ گئی ہے اور اس سے زیادہ قیمت بڑھنے کا سر دست امکان نہیں۔اس لئے اب زمیندار آہستہ آہستہ غلہ نکال رہے ہیں کیونکہ قیمت اور زیادہ بڑھ سکنے کی امید نہیں کر سکتے۔پس غلہ ملنے میں دقت نہیں۔دقت صرف یہ ہے کہ غلہ پھیلا ہوا ہے اور ہمیں علم نہیں کہ کہاں کہاں ہے۔ہمارے دوست اگر ارد گرد کے دیہات میں پھر کر ہمیں اطلاع دیں کہ فلاں فلاں جگہ گندم مل سکتی ہے تو اس طرح وہ بہت کچھ ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ان کی اطلاع پر ہمارے کارکن وہاں جا کر نمونہ لے آئیں گے اور پسند آنے پر گندم خرید لی جائے گی اگر ایک مہینے تک غلہ جمع نہ ہوا تو مجبوراً ہمیں باہر کی منڈیوں سے غلہ لانا پڑے گا اور وہ گراں بھی ہو گا اور کچھ جو لوگ زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔ان میں بے چینی بھی پیدا ہو گی اور وہ سمجھیں گے کہ شاید ہمارے حقوق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔میں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ جن جن جماعتوں نے ابھی تک اس تحریک میں حصہ نہیں لیا۔وہ اس طرف جلد توجہ کریں تا کہ وہ ثواب سے محروم نہ رہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری جماعت کو ایک ایسا نمونہ پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔جس کی مثال سارے ہندوستان میں نہیں مل سکتی اور کہیں نظر نہیں آتا کہ ضرورت کے موقع پر کسی قوم نے اپنے غریب بھائیوں کے لئے ایسے ایثار اور قربانی سے کام لیا ہو۔میرے نزد یک اگر وہ دوست جنہوں نے ابھی تک اس تحریک میں حصہ نہیں لیا۔اس طرف توجہ کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پندرہ سو من غلہ کے قریب اکٹھا ہو سکتا ہے اور اس کی قیمت موجودہ نرخ کے مطابق آٹھ ہزار روپیہ ہے۔اس وقت تک جو اندازہ وعدوں اور غلے وغیرہ کا ہے وہ ساڑھے چھ بلکہ سات ہزار روپیہ کے قریب ہے۔اگر ہزار ڈیڑھ ہزار روپیہ کے قریب اور وعدے آجائیں تو پندرہ سو من غلہ یا آٹھ ہزار روپیہ اکٹھا ہو جائے گا۔دشمن احمد یہ جماعت پر ہمیشہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے آکر کیا کام کیا اگر وہ اسی قسم کے کاموں کو دیکھیں تو انہیں اپنے اعتراض کی حقیقت معلوم ہو سکتی ہے۔ہندوستان میں اس وقت ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو کروڑوں روپیہ کے مالک ہیں مگر کہیں بھی یہ مثال نہیں ملتی کہ اس طرح انہوں نے غریب لوگوں کے لئے غلہ جمع کیا ہو بلکہ