خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 245

خطبات محمود اچھی ہے۔245 $1942 دوسری بات میں نصیحت کے طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کو ہم نے غلہ دیا ہے۔وہ اسے امانت کے طور پر اپنے پاس سال کے آخری مہینوں کے لئے محفوظ رکھیں۔میرے پاس رپورٹیں پہنچی ہیں کہ بعض لوگوں نے ابھی سے اس غلے کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے حالانکہ ابھی مارکیٹ میں غلہ ملتا ہے اگر ابھی سے اس غلہ کو استعمال کر کے خرچ کر لیا گیا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ جب غلہ کی کمی کا خطرہ ہو گا اس وقت وہ غلہ کھا چکے ہوں گے اور چونکہ ان ایام کے لئے سلسلہ اپنی ذمہ داری کو پورا کر چکا ہو گا۔اس لئے ان کو دوبارہ مدد نہیں مل سکے گی۔پس جہاں جماعت کے آسودہ حال لوگوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور اسے پورا کرنے کی کوشش کی ہے وہاں انہیں بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جلد بازی سے نہیں لینا چاہئے۔انہیں خیال کرنا چاہئے کہ اگر انہیں غلہ نہ ملتا تو لازماً وہ مارکیٹ سے خریدتے۔پھر جبکہ ان کی ضرورتوں کے لئے غلہ محفوظ ہو گیا ہے تو وہ کیوں انہی ایام میں اسے استعمال کر رہے ہیں جبکہ غلہ منڈی میں مل سکتا ہے۔اگر وہ اسی طرح کرتے رہے تو آنے والے خطرناک ایام میں وہ تکلیف اٹھائیں گے اور سلسلہ ان کی مدد کرنے سے قاصر ہو گا اور وہ تکلیف خود ان کے ہاتھوں کی پیدا کی ہوئی ہو گی۔کام میں ارد گرد کے دیہات کے لوگوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ثواب کا موقع پیدا کر دیا ہے۔وہ اچھی گندم تلاش کر کے ہمیں اطلاع دیں تاکہ ہم خرید سکیں۔ہمیں اس وقت ایک ہزار من گندم کی ضرورت ہے۔ہمارے ارد گرد جو دیہات ہیں ان میں سے سری گوبند پور میں ہماری جماعت ہے۔ماڑی بچیاں میں ہماری جماعت ہے۔جاگو وال میں ہماری جماعت ہے، پھیر و چیچی میں ہماری جماعت ہے۔اسی طرح عالمہ اور بھینی میں ہماری جماعت ہے، یہ سب جماعتیں مل کر اگر کوشش کریں تو آسانی کے ساتھ ہمیں گندم میسر آسکتی ہے۔اسی طرح گورداسپور کی طرف کا جو علاقہ ہے۔اس میں بھی کافی غلہ مل سکتا ہے اور زمینداروں کے پاس ابھی تک کافی غلہ موجود ہے۔وہ صرف اس امید پر اس کو روکے ہوئے ہیں کہ شاید گندم کی قیمت اور بھی بڑھ جائے۔مگر اب گندم کی قیمت اس قدر بڑھ گئی ہے