خطبات محمود (جلد 23) — Page 238
خطبات محمود 238 * 1942 گرتی پڑتی چلی آتی ہے کبھی کبھی مرد سے اٹھا بھی لیتا ہے دوسرے لوگ پیچھے سے بھاگے چلے آتے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ جاپانی قریب پہنچ گئے۔وہ بیوی کو سہارا دیئے ہوئے چلا آتا ہے لیکن آخر اس کے پاؤں بھی لڑکھڑانے لگتے ہیں اور وہ مجبور ہو کر اسے ایک طرف بٹھا دیتا ہے اس کے سر پر بوسہ دیتا ہے اور خدا حافظ کہہ کر آگے چل پڑتا ہے۔ایسے سینکڑوں واقعات لوگوں نے دیکھے ہیں کہ ماؤں نے بچوں کو گودیوں سے اتار دیا، خاوندوں نے بیویوں کو پہلو سے جدا کر کے مرنے کے لئے چھوڑ دیا۔گو معلوم نہیں وہ خود بھی پہنچ سکے یا نہیں۔یہاں تو چار لاکھ ہی پہنچے ہیں، باقی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ سات لاکھ میں سے کتنے مر گئے اور کتنے ابھی وہیں ہیں تین چار روز ہوئے مجھے ایک لڑکا ملا جو یہاں تحریک جدید کے بورڈنگ میں ہے۔اس نے اپنے باپ کا خط مجھے دیا جو فوج میں ملازم تھا اور میں جانتا ہوں مخلص احمدی ہے۔اس نے لکھا تھا کہ برما میں لڑائی قریب آجانے کی وجہ سے ہماری فوج کو واپس جانے کا حکم ملا مجھے تو فوج کے ساتھ جہاز میں واپس پہنچا دیا گیا اور تمہاری والدہ اور دوسرے بھائی بہنیں پیدل قافلوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔وہ قافلے تو بنگال پہنچ چکے ہیں۔مگر ان کا کوئی پتہ نہیں۔میں نے سرکار سے تنخواہ لے لی ہے اور رخصت حاصل کی ہے اور اب میں اسی راستہ پر پیدل ان کی تلاش کے لئے جارہا ہوں اور نہیں کہہ سکتا کہ خود بھی زندہ واپس آسکوں گا یا نہیں۔اس لئے تم کو ( یہاں ان کے دو بچے ہیں ) خدا تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ایسا واقعہ ایک ہی نہیں سینکڑوں ہیں مگر قلوب کو زخمی کرنے کے لئے ایک ہی کافی ہے ہم تو کسی کے متعلق بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اسے ایسے واقعات پیش آئیں۔چہ جائیکہ اس قوم کو پیش آئیں جو گو آج کتنی جاہل ہے مگر جس کے باپ دادوں نے رسول کریم صلی الیکم کے آگے اور پیچھے کھڑے ہو کر جانیں دے دیں۔اس قوم کی نسبت تو اس نظارہ کا قیاس کر کے بھی ایک مسلمان کا دل پھٹ جاتا ہے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ وہ خود ہی ان مقامات کی حفاظت کے سامان پیدا کر دے اور اس طرح دعائیں کریں جس طرح بچہ بھوک سے تڑپتا ہوا چلاتا ہے جس طرح ماں سے جدا ہونے والا بچہ یا بچہ سے محروم ہو جانے والی ماں آہ وزاری کرتی ہے۔اسی طرح اپنے رب کے حضور رو رو کر دعائیں کریں کہ اے اللہ ! تو خود