خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 148

* 1942 148 خطبات محمود لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتار سکیں ، اتار دیں۔بادل دنیا میں اکثر رحمت کا اور کبھی کبھی عذاب کا موجب ہو ا کرتے ہیں۔ایک لاکھ میں سے شاید کوئی ایک بادل تکلیف کا موجب ہو تا ہو مگر فوج اور لشکر کوئی بھی رحمت کا موجب نہیں ہوتا۔وہ جب بھی آتے ہیں تباہیاں ساتھ لاتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الْمُلُوكَ اِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِنَةً - 2 یعنی جب بھی کوئی نئے بادشاہ کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں وہ ان کو خراب کر دیتے ہیں اور اس ملک کے معزز لوگوں کو ذلیل کر کے چھوڑتے ہیں۔دنیا کی تمام تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی تو کسی بادشاہ کی نہیں ملتی کہ جو کسی ملک میں داخل ہو ا ہو اور اس نے وہاں کے نظام کا تختہ نہ الٹ دیا ہو۔اس سلسلہ میں بعض نادان آنحضرت صلی ال نیم کا نام لیا کرتے ہیں مگر وہ جانتے نہیں کہ آنحضرت صلی لنی کیم بادشاہ نہ تھے بلکہ آپ اس لفظ کو نفرت و حقارت سے دیکھتے اور خد ا سے دور اور لوگوں پر ظلم کرنے والے کے معنوں میں اسے استعمال فرماتے تھے۔یہ صحیح ہے کہ ہم بھی کبھی کبھی آپ کے متعلق بادشاہ کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں مگر یہ تو صرف اپنے اوپر آپ کی حکومت جتانے کے لئے ہے اور یہ اس لفظ کا مجازی استعمال ہے جیسے کبھی کوئی اپنے محسن کو باپ کہہ دیتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ اسے اپنی ماں کا خاوند بناتا ہے۔تو آنحضرت صلی علیم کو ہم جو کبھی بادشاہ کہہ لیتے ہیں تو صرف مجازی رنگ میں ورنہ دنیوی مفہوم کے لحاظ سے آپ کو بادشاہ کہنا ویسا ہی ہے جیسے آپ کو گالی دے دی جائے۔ہاں حاکم ہونے کے لحاظ سے اور یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ ہمارے دلوں پر آپ کی حکومت ہے اگر آپ کو کبھی بادشاہ کہہ لیا جائے تو یہ اور بات ہے ورنہ بادشاہوں میں اور آپ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اسی طرح آپ کے خلفاء بھی بادشاہ نہ تھے۔ابو بکر، عمر، عثمان، علی، ان میں سے کوئی بھی بادشاہ نہ تھا۔ہم ان کو بھی جو کبھی بادشاہ کہہ لیتے ہیں تو یہ بھی مجازی رنگ میں ہے جیسے گو موجودہ زمانہ کی پیری مریدی کے لحاظ سے ہم اسے بہت برا سمجھتے ہیں مگر اس لحاظ سے کہ جماعت کے دوستوں نے میری بیعت کی ہوئی ہے۔یہ لفظ ہمارے لٹریچر میں بھی استعمال شدہ مل جائے گا۔مگر یہ صرف نسبت بتانے اور سمجھانے کے لئے ہوتا ہے ورنہ ہم اسے بہت بُرا سمجھتے ہیں۔اسی طرح