خطبات محمود (جلد 23) — Page 122
* 1942 122 خطبات محمود اپنے فضل اور رحم سے مہیا فرما دے۔اس کے مقابلہ میں جو کام غلط ہو جائے اس کی درستی اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس کام کو مٹایا جائے چنانچہ اخطانا کے مقابلہ میں اغْفِرُ کنار کھ دیا اور غَفَرَ کے معنے عربی زبان میں مٹادینے کے ہوتے ہیں یعنی اے خداجو کام ہم غلط طور پر کر چکے ہیں اس کو تُو مٹادے اور اسے نہ کئے کی طرح کر دے۔گویا ایک طرف تو یہ کہہ دیا کہ جو کام میں نے نہیں کیا اور اس طرح رخنہ واقع ہو گیا ہے اس رختنہ کو تو اپنے فضل سے پر کر دے اور دوسری طرف یہ کہہ دیا کہ جو کام میں غلط طور پر کر چکا ہوں اس کو تُو مٹا ڈال۔وَارْحَمْنَا۔پھر اس کام کے نتیجہ میں مجھ سے جو اور غلطیاں ہوئی ہیں اور جن ترقیات کے حصول میں روک واقع ہو گئی ہے ان غلطیوں کے متعلق بھی مجھ پر رحم کر اور ترقیات کے راستہ میں جو روکیں حائل ہو گئی ہیں ان کو اپنے فضل سے دُور کر دے۔اَنتَ مول بنا تو ہمارا مولیٰ، ہمارا آقا اور ہمارا مالک ہے۔آخر ہماری کمزوریاں کسی نہ کسی رنگ میں لوگوں نے تیری طرف ہی منسوب کرنی ہیں۔لوگوں نے یہی کہنا ہے کہ یہ خدائی جماعت کہلاتی تھی مگر اسے بھی دکھ پہنچا اور اسے بھی دوسروں کی طرح تکلیف ہوئی۔پس اے مولا تو ہمارا آقا ہے اور ہم تیرے خادم ، تو آقا ہونے کے لحاظ سے ہم پر رحم کر کیونکہ ہماری کمزوریاں آخر تیری طرف منسوب ہوں گی اور لوگ ہدایت سے محروم ہو جائیں گے۔فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ پس اے ہمارے رب! ہم کو کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما اور جو لوگ ایسے کام کر رہے ہیں جن سے اسلام کی ترقی میں روک واقع ہوتی ہے ان پر تو ہمیں غالب کر اور ایسے سامان پیدا فرماجو تیری تبلیغ اور تیرے نام کو دنیا میں پھیلانے کا باعث ہوں۔پس میں سمجھتا ہوں اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی دعا ہے اور ہماری جماعت کو التزام کے ساتھ یہ دعامانگتے رہنا چاہئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی بعض دعائیں الہام کے ذریعہ بتائی گئی ہیں جن کو یاد رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ان میں سے دو دعائیں ایسی ہیں جو خاص طور پر اس زمانہ کے لئے ہیں اور وہ یہ ہیں:۔(1) رَبّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي : 5