خطبات محمود (جلد 23) — Page 121
* 1942 121 خطبات محمود اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی ازالہ کیا اور فرمایا تم یہ دعا کیا کرو کہ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ خدایا ایسا بھی نہ ہو کہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے قصور کی وجہ سے سزا مل جائے۔مگر یہاں ایک شرط بڑھا دی اور وہ یہ کہ مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِہ اور اس شرط کو اس لئے بڑھایا کہ یہاں ناراضگی کا سوال نہیں بلکہ دنیوی مصائب اور ابتلاؤں کا ذکر ہے۔ناراضگی بے شک چھوٹی بھی برداشت نہیں ہو سکتی مگر چھوٹی تکلیف برداشت کر لی جاتی ہے۔پس جہاں روحانی سزا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ذکر تھا وہاں تو یہ دعا سکھائی کہ ہم میں تیری کسی ناراضگی کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔وہ ناراضگی چھوٹی ہو یا بڑی مگر جب دنیوی تکالیف کا ذکر آیا تو وہاں یہ دعا سکھلائی کہ چھوٹے موٹے ابتلاؤں پر مجھے اعتراض نہیں اور میں یہ نہیں کہتا کہ میرا قدم ہمیشہ پھولوں کی سیج پر رہے البتہ وہ ابتلاء جو تیری ناراضگی کا موجب نہیں اور جو دنیا میں عام طور پر آیا ہی کرتے ہیں ان کے متعلق میری صرف اتنی درخواست ہے کہ کوئی ابتلاء ایسا نہ ہو جو میری طاقت سے بالا ہو۔یہ مطلب نہیں کہ مومن ایسے ابتلاء خود چاہتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے چونکہ بتایا ہوا ہے کہ میں مومن کا امتحان لیا کرتا ہوں اس لئے مومن یہ نہیں کہتا کہ خدایا میرا امتحان نہ لے بلکہ وہ کہتا ہے خدایا امتحان تو لیجئو مگر ایسانہ لیجو جو میری طاقت سے بڑھ کر ہو۔تو جو حصہ ناراضگی کا تھا وہاں تو کہہ دیا کہ میں ذراسی ناراضگی بھی برداشت نہیں کر سکتا مگر جہاں دنیوی تکالیف اور ابتلاؤں کا ذکر تھا وہاں کہہ دیا کہ خدایا تکالیف تو آئیں مگر ایسی نہ ہوں جو طاقت سے بڑھ کر ہوں۔مثلاً لڑائی ایک ایسا ابتلاء ہے جو انسانی طاقت سے بالا ہوتا ہے۔پس جب مومن یہ دعا کرے گا کہ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ تو دوسرے الفاظ میں وہ یہ دعا کرے گا کہ خدایا اس لڑائی کے عذاب کو مجھ سے ہٹا دے۔وَاعْفُ عَنَّا اور مجھ سے عفو کر۔میں سمجھتا ہوں یہ نسبنا کے مقابلہ میں ہے۔یعنی جو کلام مجھے کرنا چاہئے تھا چونکہ میں نے نہیں کیا اس لئے تو مجھے معاف کر۔وَاغْفِرْ لَنَا اور جو غلط کام میں کر چکا ہوں اس کے خمیازہ سے تو مجھے بچالے۔میرے فعل پر پردہ ڈال دے اور اس کام کو نہ کئے کی طرح کر دے۔عفو کے معنے رحم کے بھی ہوتے ہیں اور جو چیز کسی انسان سے رہ جائے اس کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ مہیا کر دی جائے۔اس لئے فرمایا وَاعْفُ عَنَّا جو چیز رہ گئی ہے اس کو تُو