خطبات محمود (جلد 23) — Page 87
* 1942 87 خطبات محمود سمجھ بھی نہیں تھی کہ نماز میں بولنا منع ہے۔اُس وقت قادیان میں نہ تار گھر تھا اور نہ ریل آیا کرتی تھی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو کبھی تار دینے کی ضرورت پیش آتی یا کوئی ریلوے پارسل منگوانا ہو تا تو آپ بٹالے کسی آدمی کو بھجوادیا کرتے تھے اور کبھی کبھی پیرے کو بھی اس غرض کے لئے بھیج دیتے تھے۔ان دنوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو ہمارے سلسلہ کے اشتر ترین مخالفوں میں سے تھے۔سٹیشن پر جایا کرتے تھے اور جب کسی نووارد مہمان کو اترتے دیکھتے تو اس سے پوچھتے کہ وہ کہاں جانا چاہتا ہے اور جب کسی کے متعلق معلوم ہو تا کہ وہ قادیان جانا چاہتا ہے تو اسے ورغلانے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ یہیں سے واپس چلے جاؤ۔قادیان میں جاکر تو تمہارا ایمان خراب ہو جائے گا۔ایک دن انہیں اور کوئی شکار نہ ملا تو انہوں نے پیرے کو ہی پکڑ لیاوہ اُس دن کوئی تار دینے یا کوئی بلٹی لینے کے لئے بٹالے گیا ہوا تھا۔مولوی محمد حسین صاحب اسے کہنے لگے۔پیرے تیرا تو ایمان خراب ہو گیا ہے۔مرزا صاحب کافر اور دجال ہیں تو اپنی عاقبت ان کے پیچھے لگ کر کیوں خراب کرتا ہے۔پیراان کی باتیں سنتا رہا سنتا رہا۔جب وہ اپنا جوش نکال چکے تو انہوں نے اپنی باتوں کی پیرے سے بھی تصدیق کرانی چاہی اور انہوں نے اس سے پوچھا بتاؤ میری باتیں کیسی ہیں۔پیرا کہنے لگا مولوی صاحب میں تو ان پڑھ اور جاہل ہوں، مجھے نہ کوئی علم ہے اور نہ میں مسئلے سمجھ سکتا ہوں لیکن ایک بات ہے جو میں بھی سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ میں سالہا سال سے بلٹیاں لینے اور تاریں دینے کے لئے یہاں آتا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ سٹیشن پر آکر لوگوں کو قادیان جانے سے منع کرتے ہیں۔آپ کی اب تک شاید اس کوشش میں کتنی ہی جو تیاں بھس گئی ہوں گی مگر مولوی صاحب پھر بھی آپ کی کوئی نہیں سنتا اور مرزا صاحب قادیان میں بیٹھے ہیں اور پھر بھی لوگ اُن کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔آخر کوئی بات تو ہے جس کی وجہ سے یہ فرق ہے۔اب دیکھو یہ کیسا لطیف اور صحیح جواب ہے۔وہ فی الحقیقت دینی مسائل کو نہیں سمجھ سکتا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ دلائل کیا ہوتے ہیں مگر فطرت کے لگاؤ اور محبت کی وجہ سے اس نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ شیطان ہے اور یہ شخص بہر حال جھوٹ بول رہا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو بعض دفعہ ایسی باتیں سمجھا دیتا ہے کہ انسان کی عقل