خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 86

1942ء 86 خطبات محمود اور جو مہمان آتا تھا اس کی خدمت کرتا تھا اسی طرح گھر کا معمولی کام کاج بھی کر دیا کرتا تھا۔ اس کی عقل کا یہ حال تھا کہ حضرت خلیفہ اول اسے بڑا مجبور کیا کرتے تھے کہ وہ نماز پڑھے مگر وہ یہی جواب دیتا تھا کہ مجھے نماز نہیں آتی۔ حضرت خلیفہ اول کو بھی بڑا جوش تھا کہ یہ حضرت مسیح موعود کے دروازے پر بیٹھا رہتا ہے اور نمازیں نہیں پڑھتا۔ لوگ اسے دیکھیں گے تو اعتراض کریں گے۔ اس لئے آپ اُسے بار بار نماز پڑھنے کی نصیحت کیا کرتے تھے مگر وہ جواب دیتا کہ مجھے نماز یاد ہی نہیں ہوتی۔ آخر حضرت خلیفہ اول نے تنگ آکر اسے فرمایا کہ نماز نہیں آتی تو سُبْحَانَ الله سُبْحَانَ اللہ ہی کہہ لیا کرو۔ چنانچہ اس کے بعد وہ کبھی ساتویں آٹھویں دن نماز میں شامل ہو جاتا تھا اور سُبْحَانَ الله سُبْحَانَ اللہ کہتا رہتا تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے ایک دن اس خیال سے کہ شاید انعام کے لالچ سے اُسے نماز پڑھنے کی عادت ہو جائے۔ اُسے فرمایا۔ پیرے اگر تم ایک دن پانچوں نمازیں وقت پر پڑھو اور ایک نماز کا بھی ناغہ نہ کرو تو میں تمہیں دو روپے انعام دوں گا۔ دو روپے اس کے لئے بڑا بھاری انعام تھا۔ وہ کہنے لگا آج ضرور پانچوں نمازیں پڑھوں گا۔ شاید عشاء کا وقت تھا جب اس نے نماز شروع کی صبح ہوئی تو پھر بھی اس نے ہمت کر کے نماز پڑھ لی۔ ظہر اور عصر میں بھی کسی نہ کسی طرح شامل ہو گیا۔ صرف مغرب کی نماز رہتی تھی ان دنوں چونکہ مہمان بہت تھوڑے ہوا کرتے تھے اس لئے ان کا کھانا ہمارے گھر میں تیار ہوا کرتا تھا اور مغرب کے وقت ان کا کھانا گھر سے جایا کرتا تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اس دن مغرب کی نماز نسبتا دیر سے ہوئی اور کھانالے جانے کا وقت ہو گیا۔ جو عورت اندر سے کھانا لا یا کرتی تھی اس نے پیرے کو آواز دی کہ پیرے کھانا تیار ہے مہمانوں کے لئے لے جاؤ مگر پیرا مسجد میں تھا اور اُس وقت نماز ہو رہی تھی۔ لیکن بلانے والی عورت کو اس کا علم نہ تھا۔ اس نے دو چار آوازیں دیں مگر پیرا وہاں ہو تا تو جواب دیتا۔ آخر اس نے زور سے آواز دی کہ پیر یا کھانا لے جا نہیں تو میں تیری شکایت کروں گی۔ یہ آواز چونکہ اس نے زور سے دی تھی اس لئے پیرے نے بھی سن لی جس پر اس نے نماز میں ہی جواب دیا کہ ٹھہر جا التَّحِيَّات پڑھ لواں تے آنداں آں۔ یعنی تشہد پڑھ کر آتا ہوں۔ گویا عین آخری تشہد میں وہ بول پڑا اور اس طرح اس نے اپنے دو روپے کھو دیئے۔ تو وہ بہت ہی موٹی عقل کا آدمی تھا اور اسے اتنی