خطبات محمود (جلد 23) — Page 59
* 1942 59 خطبات محمود تو شاید غرباء ہی دو دو من گندم خرید لیتے اور اس طرح اس عام تکلیف سے بچ جاتے۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن پر عمل کرنے میں غرباء کو زیادہ توفیق مل جاتی ہے اور امراء کو نہیں ملتی۔پس شاید یہ میری ہی غلطی تھی کہ میں نے چند آدمیوں پر انحصار کیا اور جماعت میں عام اعلان نہ کر دیا۔بہر حال یہ دن بہت نازک ہیں۔ان ایام میں زیادہ سے زیادہ دوسروں کی ہمدردی کرنی چاہئے۔اب بھی میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اسے اپنی غذا کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جنگ کے دنوں میں تو بعض دفعہ چھ چھ سات سات وقت کا بھی فاقہ ہو جاتا ہے۔اس لئے مناسب یہی ہے کہ جماعت کے دوست ابھی سے اپنی غذا کو بدل دیں۔گندم نہیں ملتی تو جو پر گزارہ کریں۔جو نہیں ملتے تو کی پر گزارہ کریں اور جن کو چاول میسر ہوں وہ چاولوں پر گزارہ کریں۔خصوصاً آسودہ حال لوگ اگر ان دنوں چاول کھانے کی عادت ڈال لیں تو یہ غرباء کی امداد ہو گی۔? چھ مہینہ تک اگر وہ ایک وقت چاول کھانے کی عادت ڈال لیں تو ان کی صحت کو بھی کوئی ایسا نقصان نہیں ہو گا اور گندم کی گاہکی میں بھی کمی آجائے گی اور غرباء کو کھانے کے لئے غلہ مل جائے گا۔اسی طرح جو لوگ تھی کھا سکتے ہیں۔وہ تگی پر گزارہ کرنے کی کوشش کریں۔گندم مل جائے تو بڑی اچھی بات ہے مگر میں نے جو گندم کا نمونہ دیکھا ہے وہ قطعاً انسانی خوراک بننے کے قابل نہیں۔زیرہ کے برابر اس کا قد تھا اور رنگ ایسا تھا جیسے سیاہ گڑ ہوتا ہے۔ایسے غلہ سے بھلا طاقت کیا آتی ہے اور لوگوں کی صحتوں پر اس نے کیا مفید اثر ڈالنا ہے۔چونکہ اس وقت زمیندار دوست بھی بہت سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اس لئے ان کو بھی میں نصیحت کرتا ہوں کہ اگلی فصل پر وہ اپنی ضرورت سے زیادہ غلہ محفوظ رکھیں اور سوائے اشد ضرورت کے روپیہ کی صورت میں غلہ بدلنے کی کوشش نہ کریں۔غالباً یہ سال یعنی 1942ء مشکلات کا آخری سال معلوم ہوتا ہے۔1942ء کے آخر یا 1943ء کے شروع میں حالات ایسا پلٹا ضرور کھا جائیں گے کہ دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔اس لئے اس سال خصوصیت کے ساتھ ہر کام جماعتی رنگ میں ادا کر و اور اگر پہلے غلطی سے تم