خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 579

* 1942 579 خطبات محمود ہر سال حج کے لئے چلے جاتے ہیں اور وہ بھی اس کو کوئی عجیب بات نہیں سمجھتے کیونکہ جب سے وہ پیدا ہوئے۔وہ یہی نظارہ دیکھتے چلے آرہے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ کشمکش وہ جد و جہد ، وہ جنگ اور وہ لڑائی جو محمدصلی الله علم کو دنیا سے کرنی پڑی اور جس جنگ کے بعد لوگ مغلوب ہوئے اور آخر وہ کچے کچھے مکہ مکرمہ کی طرف جانے لگے۔وہ اب لوگوں کو نظر نہیں آتی۔وہ یہی نظارہ دیکھتے چلے آرہے ہیں۔وہ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ایک رسمی چیز ہے جو مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حج کا ایک ظل قادیان میں قائم کیا اور فرمایا کہ بتاؤ کیا یہاں لوگ آیا کرتے تھے۔تم جانتے ہو کہ یہاں لوگ نہیں آیا کرتے تھے۔یہ تمہاری آنکھوں دیکھی بات ہے۔جنگل کی طرح ایک غیر آباد خطہ تھا جو دنیا سے بالکل غیر متعلق تھا مگر اب اسی جگہ اللہ تعالیٰ کے الہامات کے مطابق ساری دنیا سے لوگ کھچے ہوئے آرہے ہیں۔جب قادیان میں تمہاری آنکھوں کے سامنے خدا تعالیٰ کا یہ عظیم الشان نشان ظاہر ہو رہا ہے تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ ایسا ہی بلکہ اس سے بہت بڑا نشان مکہ مکرمہ میں دکھایا گیا تھا۔پس ہمارا جلسہ حج کا ایک ظل ہے اور اس ظل نے ثابت کر دیا ہے کہ مکہ میں ہر سال لوگوں کا جمع ہونا عاد تا نہیں بلکہ بہت بڑی جد وجہد اور خدائی نشانوں کا نتیجہ ہے۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ لوگوں کا مکہ مکرمہ میں جانا محض ایک رسم ہے انہیں چونکہ نسلاً بعد نسل وہاں جانے کی عادت پڑی ہوئی ہے اس لئے لوگ جاتے ہیں تو ہم اسے کہیں گے بے شک آج تمہیں یہ رسم دکھائی دیتی ہے کیونکہ تم ایک لمبا زمانہ گزرنے کی وجہ سے اس حالت کا پورا احساس نہیں کر سکتے جو ابتدائی زمانہ میں رسول کریم صلی ال یکم کی تھی لیکن اگر تم اس حالت کا اندزہ نہیں لگا سکتے اور تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ مکہ میں مسلمانوں کا جانا ایک رسم ہے تو تم ہماری حالت دیکھ لو۔کس طرح دنیا نے ہماری جماعت کا مقابلہ کیا مگر کس طرح لوگوں کی مخالفت کے باوجود ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے قدم بقدم ترقی کرتی چلی گئی۔ہماری جماعت کا کسی ایک مذہب یا ایک گروہ نے مقابلہ نہیں کیا بلکہ مسلمانوں نے بھی مقابلہ کیا، ہندوؤں نے بھی مقابلہ کیا، عیسائیوں نے بھی مقابلہ کیا بلکہ الكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ کے مطابق جو بھی اٹھتا ہے وہ اپنی ناراضگی اور غصے کا نشانہ احمدیوں کو ہی بنانا شروع کر دیتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ سارے۔