خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 571

* 1942 571 خطبات محمود اس لڑائی کا اثر ارد گرد کے گاؤں پر بھی نہیں پڑتا۔اس لڑائی کا اثر اس گاؤں پر بھی نہیں پڑتا جس میں لڑائی ہوئی ہوتی ہے۔بسا اوقات وہ دونوں لڑ جھگڑ کر گھر آجاتے ہیں اور خود ان کے محلہ کے لوگوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی آپس میں کوئی لڑائی ہوئی ہے۔پس بظاہر وہ ایسی ہی لڑائی تھی جو مکہ والوں کی محمد رسول اللہ صلی ال نیم سے جاری تھی۔مکہ والے خیال کرتے تھے کہ وہ اپنے اس حقیر دشمن کو مٹا دیں گے۔اسے تباہ اور برباد کر کے رکھ دیں گے لیکن آج اگر دنیا کے پردہ پر ابو جہل کو لا کر کھڑا کر دیا جائے۔اگر آج عتبہ اور شیبہ اور اسی قسم کے دوسرے دشمنوں کو لا کر کھڑا کر دیا جائے جو مکہ میں دن رات رسول کریم صلی ایم کو دکھ دیا کرتے تھے اور یہ خیال کیا کرتے تھے کہ محمد (صلی لی کر) کا نام دنیا سے مٹادیں گے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں کہ آج ملک کے لوگ تو الگ رہے ، یمن کے لوگ تو الگ رہے ، مدینہ کے لوگ تو الگ رہے، مجد کے لوگ تو الگ رہے، دنیا کے ہر گوشہ اور ہر ملک کے لوگ چاروں طرف سے دوڑتے ہوئے مکہ میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔وہاں جاوا سے بھی لوگ پہنچ چکے ہیں، سماٹر اسے بھی پہنچ چکے ہیں، چین سے بھی پہنچ چکے ہیں اور ہندوستان سے بھی پہنچ چکے ہیں۔غرض ہر قوم، ہر جتھہ اور ہر گروہ کے لوگ آج بے تحاشا عاشقوں کی طرح محمد رسول اللہ صلی علیم کی آواز پر یہ کہتے ہوئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ہم آگئے ، ہم آگئے۔مکہ کے لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی ا یم سے کہا تھا کہ تو یہاں سے نکل جا۔خدا نے کہا تم اسے یہاں سے نکالتے ہو۔میں ہمیشہ دنیا کے کناروں سے لوگوں کو یہاں اکٹھا کروں گا جو لبيك اللهُمَّ لَبَّيْكَ کہتے ہوئے دوڑتے چلے آئیں گے کسی کی آنکھیں دیکھنے والی ہوں تو وہ دیکھے، کسی کے کان سننے والے ہوں تو وہ سنے کہ مکہ والوں نے کیا کہا اور خدا نے اس کا کیا جواب دیا۔مکہ والوں نے کہا تھا کہ تم ان کا بائیکاٹ کر دو، ان کے کھانے بند کر دو۔یہ خود بخود تباہ ہو جائیں گے۔مکہ والوں کے پاس کیا تھا۔ایک وادی غیر ذی زرع جہاں نہ کھیتی باڑی ہوتی ہے نہ کھانے کے لئے چیزیں ملتی ہیں۔وہ باہر سے غلہ لاتے اور کھاتے ہیں یہاں تک کہ مکہ میں زیادہ جانور بھی نہیں ہوتے کیونکہ وہاں ان کے چارہ کے لئے کوئی رکھ نہیں۔عرب کا گھوڑا بہت مشہور ہے لیکن مکہ میں چند گھوڑوں سے زیادہ نہیں ملتے۔جب ہم عرب کا گھوڑا کہتے ہیں تو اس سے مراد مسجد کا گھوڑا ہوتا ہے۔ورنہ مکہ گھوڑوں سے