خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 570

570 $1942 41 خطبات محمود محمد رسول الله صلى ال ولیم کی بے مثال عظمت و شان (فرمودہ 18 دسمبر 1948ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج کا دن وہ دن ہے جبکہ ہزاروں میلوں سے مختلف زبانوں میں باتیں کرنے والے مختلف قوموں کے افراد مختلف تمدنوں کے عادی لوگ کھچے کھچے اس مقام پر جا پہنچے ہیں جہاں تیرہ سو سال سے زیادہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ نبی پیدا ہوا تھا جو تمام نبیوں کے کاموں کو پورا کرنے والا اور نبوت کا آخری پیغام پہنچانے والا تھا۔صدیاں گزریں مکہ کے لوگوں نے اس کی آواز کو سنا اور کہا نکل جا اور دُور ہو جا، ہم تیری بات کو سننا نہیں چاہتے۔مکہ کے لوگوں کی دنیوی لحاظ سے حیثیت ہی کیا تھی۔نہ وہ کوئی بڑے بادشاہ تھے ، نہ ان کا تمدن کوئی ایسا اعلیٰ درجہ کا تھا کہ اس کی وجہ سے وہ دنیا پر خاص اثر رکھتے ہوں، نہ وہ علوم و فنون کے ایسے ماہر تھے کہ یونان کے فلسفہ کی طرح ان کی دنیا پر دھاک بیٹھی ہوئی تھی، نہ وہ ایسے فاتح تھے کہ سکندر اور خورس کی طرح دنیا میں ان کا نام روشن ہو۔معمولی حیثیت کے انسان تھے جیسے یہاں کے پہاڑی راجے ہوتے ہیں بلکہ اس سے بھی کم، مگر محمد رسول اللہ صلی علیم کی حیثیت ان کے مقابلہ میں بھی اتنی کمزور تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے سامنے یہ شخص ٹھہر ہی نہیں سکتا اور وہ بھی اپنی آواز کی اتنی قیمت سمجھتے تھے کہ خیال کرتے تھے کہ اس کی آواز ہماری آوازوں کے سامنے ضرور دب جائے گی۔وہ اس کو ایک مقامی فتنہ خیال کرتے تھے اور دنیا اس کو ایسا ہی سمجھتی تھی جیسا کسی چھوٹے سے گاؤں میں دو زمینداروں کے درمیان آپس میں کسی کھیت پر لڑائی ہو جاتی ہے۔