خطبات محمود (جلد 23) — Page 57
* 1942 57 خطبات محمود طرف توجہ نہ کی۔چنانچہ اب جو مجھے رپورٹیں پہنچی ہیں اور پہنچ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جو روزانہ روٹی کے لئے غلہ کے محتاج ہیں۔مجھے اطلاعیں ملی ہیں کہ بیسیوں آدمیوں کو گزشتہ دنوں باوجود اس بات کے کہ ان کے پاس پیسے تھے۔غلہ نہ ملا اور انہیں فاقہ کرنا پڑا۔مجھے بعض روٹیاں دکھائی گئی ہیں جو میرے نزدیک جانوروں کے کھانے کے بھی قابل نہیں مگر لوگ ان ایام میں وہ کھاتے رہے۔میں نے آج سے دو مہینے پہلے (کیونکہ سفر پر جانے سے پندرہ بیس دن پہلے کی یہ بات ہے) بعض دوستوں کو جو آسودہ حال تھے ، کہلا بھیجا تھا کہ غلہ خرید لو کیونکہ ملک میں قحط کے آثار پائے جاتے ہیں اور میری غرض اس سے یہ تھی کہ اگر وہ غلہ خرید لیں گے تو مصیبت کے وقت وہ غرباء کا غلہ چھینے والے نہیں بنیں گے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قریباً ساروں نے جواب دے دیا اور کسی نے بھی غلہ نہ خریدا۔کسی نے تو یہ جواب دیا کہ ہمیں ضرورت ہی نہیں۔کسی نے یہ جواب دیا کہ ضرورت ہوئی تو خرید لیا جائے گا اور کسی نے یہ جواب دیا کہ ہمارا تو تو کل پر گزارہ ہے مگر اب وہ تو کل پر گزارہ کرنے والے بھی امور عامہ میں پر عرضیاں لے لے کر آتے ہیں کہ ہمارے لئے آئے کا انتظام کیا جائے۔اگر انہوں نے اس وقت میری بات کو مان لیا ہو تا تو آج ان کی یہ حالت کیوں ہوتی۔مجھے افسوس ہے کہ جماعت کے دوستوں میں ابھی تک اطاعت کا کامل مادہ پیدا نہیں ہوا۔کیا تم سمجھتے ہو اگر رسول کریم ملی ای نیم کے زمانہ میں صحابہ کو ایسا حکم دیا جاتا تو وہ اس میں کو تاہی کرتے۔میں تو سمجھتا ہوں اگر انہیں دس دس من گندم خریدنے کے لئے کہا جاتا تو وہ ہمیں بیس من خرید لیتے۔اگر میری تحریک پر جماعت کے ان دوستوں نے گندم خرید لی ہوتی تو اب انہیں نیکی کی کتنی توفیق مل جاتی اور کس طرح نہ صرف وہ اپنا گزارہ کر سکتے بلکہ دوسرے غرباء کی بھی مدد کر سکتے مگر اب تو ان کی یہ حالت ہے کہ جو غلہ ہم غریبوں کے لئے لاتے ہیں۔اس میں بھی وہ شریک ہو جاتے ہیں اور اس طرح بجائے ان کی مدد کرنے کے ان کے حصہ کو بھی چھیننے والے بن رہے ہیں۔یہ اسی غفلت کا نتیجہ ہے جو دوستوں سے سرزد ہوئی۔حالانکہ میں نے یہ تحریک ایک خواب کی بناء پر کی تھی جو ایک عورت نے مجھے سنایا اور جس کو سنتے ہی میں نے یقین کر لیا تھا کہ یہ خدائی خواب ہے۔اس