خطبات محمود (جلد 23) — Page 56
* 1942 56 خطبات محمود اس وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی کو کیا تکلیف ہوتی ہے بلکہ اس وقت جرنیلوں کا فرض ہوتا ہے کہ کسی بات کی پرواہ نہ کریں اور اگر گاؤں درمیان میں آجائیں تو انہیں بھی تباہ ہونے دیں۔اس وقت اس گاؤں یا شہر کو بچانا کسی حکومت کے ذمہ نہیں ہو تا بلکہ یہ تو انگریزی حکومت ہے اگر اسلامی حکومت ہو تب بھی ہم اس سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ گاؤں کو بچانے کا فکر کرے گی اور فوجی ضروریات کو مقدم نہیں رکھے گی۔ایسی حالت میں بے شک اگر کوئی گاؤں اڑتا ہے تو اڑ جائے، جلتا ہے تو جل جائے۔اس کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔پس حالات نہایت ہی نازک صورت اختیار کر رہے ہیں۔ایسی حالت میں ہمیں بہت زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ان فتنوں کو دور کرے اور دنیا کو اس عذاب سے نجات دے۔اگر تم اپنے بھائیوں کی قید کی تکلیف کو اب دور نہیں کر سکتے اور اپنی غفلت سے تم نے پہلے وقت کو ضائع کر دیا ہے۔تو اب مزید لوگوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے دعاؤں میں لگ جاؤ تا اللہ تعالیٰ ہمارے پچھلے گناہ معاف کرے اور آئندہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت فرمائے۔اس وقت ہماری جماعت کے ہزاروں آدمی فوج میں شامل ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو ابھی کام سیکھ رہے ہیں۔اگر ان ہزاروں احمدیوں کا بھی کسی شخص کے دل میں درد نہیں ہے تو میں ہر گز نہیں سمجھ سکتا کہ وہ سچا احمدی ہے۔سچا احمدی تو وہ ہے جو ایک چھوٹے سے چھوٹے احمدی کی تکلیف کو بھی اس طرح محسوس کرے کہ گویا اس کی ساری اولاد ذبح کر دی گئی ہے۔جب تک اپنے بھائیوں کے متعلق ہمارے دلوں میں ایسا درد پیدا نہ ہو۔اس وقت تک ہم ہر گز سچے احمدی نہیں کہلا سکتے۔دوسری بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے جماعت کے دوستوں سے کہا تھا کہ جنگ کا ایک خطرناک اثر یہ ہوتا ہے کہ ملک میں قحط پڑ جاتا ہے اور میں نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے ہر زمیندار کو غلہ محفوظ رکھنا چاہئے تاکہ اگر تکلیف کا وقت آئے۔تو ہم نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے ہمسائیوں کے لئے بھی روٹی کا انتظام کر سکیں۔اس وقت میری تقریر میں قادیان کے لوگ بھی بیٹھے تھے اور باہر کی جماعتوں کے دوست بھی موجود تھے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لوگوں نے میری اس بات کی