خطبات محمود (جلد 23) — Page 531
1942ء 531 خطبات محمود اور اس قدر رقم آجائے گی کہ ریویو آف ریلیجز کو بھی لوگوں کے نام جاری کر دیا جا سکے گا۔ غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی تحریک ایسی نہیں جس میں جماعت نے بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیا ہو۔ میں نے اگر ایک روپیہ مانگا تو جماعت نے چار روپے دیئے۔ میں نے پانچ سو من غلہ مانگا تھا جماعت نے پندرہ سو من غلہ اکٹھا کر دیا۔ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے میرا اندزہ بالکل غلط نکلا اور خرچ بھی پندرہ سو من کے قریب قریب ہو گیا بلکہ اب تک بعض غرباء کی طرف سے درخواستیں آرہی ہیں ۔ ہم نے سو ڈیڑھ سو من غلہ محفوظ رکھا تھا کیونکہ بعض دفعہ نئے آدمی آ جاتے ہیں اور بعض دفعہ اچانک کوئی ایسی مصیبت پیش آجاتی ہے جس کا فوری طور پر تدارک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسی ضروریات کے لئے میں نے سو ڈیڑھ سو من غلہ محفوظ رکھوایا ہو ا تھا مگر میں دیکھتا ہوں اب تک برابر درخواستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تو میں نے پانچ سو وو من غلہ مانگا اور جماعت نے پندرہ سو من غلہ مہیا کر دیا۔ اب میں نے “ الفضل ” اور “ سن رائز ” کے ایک ایک ہزار پرچوں کے لئے اعلان کیا تھا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے “ الفضل ” اور “سن رائز ” کے ایک ایک ہزار پرچے جاری کرانے کے لئے جس قدر روپیہ کی ضرورت تھی وہ اکٹھا ہو چکا ہے اور ابھی اور روپیہ آرہا ہے جس سے امید ہے کہ ریویو آف ریلیجز اردو کے پرچے بھی جاری کرائے جاسکیں گے۔ پہلے میر امنشاء یہ تھا کہ “ الفضل ” اور “سن رائز ” بجائے ایک ا ایک وو ہزار جاری کرانے کے آٹھ آٹھ سو جاری کر دیئے جائیں اور جور قم باقی بچے اس سے ریویو آف ریلیجز اردو جاری کرا دیا جائے مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ “الفضل ” اور سن رائز ” کے بعد اب ریویو اردو کے لئے بھی روپیہ اکٹھا ہو رہا ہے اور ابھی غیر ممالک 66 وو سے اس کے متعلق کوئی وعدے نہیں آئے۔ ہندوستان کی بہت سی جماعتوں نے بھی ابھی تک اس میں حصہ نہیں لیا۔ اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ریویو آف ریلیجز اردو کا ایک ہزار پرچہ بھی ہم آسانی سے تبلیغ کے لئے جاری کر سکیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید کے بعد وہ لوگ جنہوں نے اس میں حصہ لیا تھا ان کے ایمانوں میں ایسی ترقی ہوئی کہ انہوں نے اور تحریکوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا اور وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا انہوں نے اس ندامت سے کہ وہ تحریک جدید میں حصہ نہیں لے سکے بعد میں