خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 529

* 1942 529 خطبات محمود جنگ چلی جائے۔بہر حال اب یہ جنگ بظاہر دو تین سال میں ختم ہونے والی ہے۔اگر ہماری جماعت کے دوست اس تحریک میں پورے زور سے حصہ لیں تو یہ سکیم کہ اس روپیہ سے ایک ایسی جائداد پیدا کی جائے جس سے اشاعت اسلام کے مستقل خرچ ہم پورے کر سکیں۔اس عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو جائے گی اور در حقیقت پھر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جو اسے نتیجہ خیز بنا سکتا ہے ورنہ کیا جائدادیں دنیا میں تباہ نہیں ہو جاتیں۔قادیان میں ہی دیکھ لو۔قادیان کے ارد گرد گاؤں کے گاؤں ہمارے باپ دادا کی ملکیت تھے مگر اب ملکیت چھوڑ سکھ ہمارے سخت دشمن ہیں اور گو اب حالات خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھے ہو گئے ہیں مگر ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ ان گاؤں میں ملکیت چھوڑ ہمارے لئے پانی پینا بھی مشکل تھا۔تو اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو بڑی بڑی جائدادیں تباہ ہو جاتی ہیں۔بہر حال ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم جس قدر کام کر سکتے ہوں کریں اور باقی کے متعلق اللہ تعالیٰ پر توکل کریں مگر میں نے دیکھا ہے کئی لوگ ایسے ہیں جن کو سارا تو کل اللہ تعالیٰ کے کاموں کے متعلق ہی سوجھتا ہے۔گھر کے کاموں کے متعلق نہیں سوجھتا۔جب خدا تعالیٰ کے دین کے لئے کسی جائداد کا سوال آجائے تو کہہ دیں گے پتہ نہیں کل کیا ہو جانا ہے جائداد بنا کر کیا کرنا ہے مگر ان کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ کو ٹھڑی بھی بن جائے، وہ پاخانہ بھی تیار ہو جائے۔گویا انہیں سارا تو کل اللہ تعالیٰ کے لئے ہی سوجھتا ہے گھر کے لئے نہیں سوجھتا۔گھر کے لئے اس شدید گرانی کے ایام میں بھی چیزیں تیار ہوتی چلی جاتی ہیں۔یہاں آجکل جنگ کی وجہ سے کوئی احمدی بھٹے والا نہیں اور ضرورت پر ہندو بھٹے والے سے اینٹیں خریدی جاتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے باوجو د شدید گرانی کے عموماً درخواستیں آتی رہتی ہیں کہ شدید ضرورت کے لئے دس ہزار اینٹوں کی ضرورت ہے، خریدنے کی اجازت دی جائے۔کوئی لکھتا ہے شدید ضرورت کے لئے چالیس ہزار اینٹوں کی ضرورت ہے حالانکہ آجکل 21-22 روپے ہزار اینٹ ملتی ہے مگر پھر بھی لوگ خرید تے چلے جاتے ہیں لیکن جہاں خدا اور اس کے دین کا سوال آجائے وہاں کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس کو جانے دو خبر نہیں کل کیا ہو جائے گا۔یہ ستوں کی علامت ہے مومنوں کی نہیں۔مومن تو کہتا ہے کہ خدا کا کام ہونا چاہئے میرا کام اگر رہتا ہے تو بے شک رہ جائے اور اگر یہ مقام کسی کو