خطبات محمود (جلد 23) — Page 519
* 1942 519 خطبات محمود گر جامیں ننگے سر آجائیں تو یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں ہو سکتی۔پادریوں کا یہ فیصلہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے مشہور ہے کہ کسی پٹھان نے ایک دفعہ حدیث میں پڑھا کہ رسول کریم صلی علیہ یکم ایک دفعہ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی حالت میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور آپ نے نماز میں ہی تھوڑا ساہل کر دروازہ کھول دیا یا یہ حدیث تھی کہ آپ نے نماز میں حضرت حسن کو گود میں اٹھالیا اور سجدہ کے وقت اتار دیا۔یہ ایک اسلامی مسئلہ ہے اور اسلام نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ ضرورت کے وقت انسان نماز کے وقت بچہ کو اٹھا یار کھ سکتا ہے یا اشد ضرورت پر قبلہ کی طرف منہ رکھتے ہوئے دروازہ کھول سکتا ہے۔اسی طرح سانپ یا بچھو نکل آئے تو نماز کی حالت میں ہی اس کو مار ڈالنا جائز ہے مگر فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ نماز کی حالت میں اگر تھوڑی سی حرکت بھی کی جائے تو وہ نا جائز ہوتی ہے حالانکہ فقہاء کی مراد اس سے یہ تھی کہ وہ حرکت جو بلا وجہ ہو حالت نماز میں جائز نہیں ہوتی۔یہ مطلب نہیں تھا کہ ضرورت پر بھی نماز میں حرکت کرنی جائز نہیں۔پٹھانوں نے چونکہ کنز یا بہت پڑھی ہوئی ہوتی ہے اور وہ انہیں حفظ ہوتی ہے اس لئے یہ مسئلہ اس پٹھان کو خوب یاد تھا۔ایک دن وہ حدیث پڑھ رہا تھا کہ اس میں یہ ذکر آگیا کہ رسول کریم صلی الی یوم نے حالت نماز میں دروازہ کھول دیا۔یا یہ ذکر تھا کہ رسول کریم صلی ال کلیم نے ایک دفعہ نماز کی حالت میں ہی حضرت امام حسن یا حضرت امام حسین کو اٹھالیا۔جس وقت آپ سجدہ کے لئے جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر انہیں اٹھالیتے۔4 جونہی اس نے آپ کی اس حرکت کا حدیث میں ذکر پڑھا تو وہ کہنے لگا خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔کنز میں لکھا ہے آج ہم اس بات پر ہنستے ہیں اور واقع میں یہ جنسی کے قابل بات ہے کیونکہ مذہب کو خدا نے نازل کیا اور محمد صلی الم نے اس کے احکام کی اپنے عمل سے تفسیر و توضیح کی یا ان کو علم لدنی عطا فرما کر حکم دیا کہ وہ مذہبی احکام کی تشریح لوگوں کے سامنے کر دیں۔کنز والا تو آپ کی جوتیاں اٹھانے والا اور آپ کی باتوں کا کاتب تھا اور کاتب فیصلہ نہیں کیا کرتا بلکہ مضمون لکھنے والے کا کام ہوتا ہے کہ وہ مسائل کے متعلق فیصلہ کرے۔کنز والے کی ساری عزت اس بات میں تھی کہ محمد صلی علی یم نے جو کچھ فرمایا اس کی صحیح صحیح تشریح لوگوں تک پہنچا دے۔اسی طرح حدیثیں جمع کرنے والوں کی کنز الدقائق