خطبات محمود (جلد 23) — Page 480
$1942 480 خطبات محمود ذلت اور رسوائی سے مرنے دوں، میں تمہیں زندہ رکھوں گا اور عزت سے زندہ رکھوں گا۔کیا ہی خوشی کا مقام ہو تا تھا ان کے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں کسی تکلیف کا برداشت کرنا اور کس مسرت سے وہ ان مصائب کو برداشت کیا کرتے تھے۔اس کے لئے حضرت عثمان بن مظعون کا ایک واقعہ نہایت ہی درد ناک اور ایمان افروز ہے۔میں نے یہ واقعہ پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے۔جو اس امر کو واضح کرتا ہے کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں کس خوشی سے تکالیف برداشت کیا کرتے تھے۔حضرت عثمان بن مظعون ایک بہت بڑے رئیس کے لڑکے تھے۔ان کا باپ بچپن میں فوت ہو گیا تھا اور وہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ مسلمان ہو گئے مکہ میں جس طرح اور مسلمانوں پر ظلم کئے جاتے تھے اسی طرح عثمان بن مظعون کو بھی مختلف مظالم کا تختہ مشق بنایا جاتا تھا۔آخر ایک دفعہ انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جائیں چنانچہ وہ اس ارادہ سے جارہے تھے کہ انہیں ایک رئیس نے دیکھ لیا جو ان کے باپ کا دوست تھا۔اس نے ان سے پوچھا کہ عثمان کہاں کی تیاریاں ہیں۔انہوں نے کہا مکہ والوں کے ظلم سے تنگ آکر میں حبشہ کی طرف ہجرت کر کے جارہا ہوں۔وہ رئیس چونکہ ان کے باپ کا دوست تھا اس لئے کہنے لگا عثمان میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ تو مکہ چھوڑ کر چلا جائے۔میں تیرے باپ کو کیا منہ دکھاؤں گا تو آج سے میری پناہ میں آ جا تجھے مکہ والے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے۔عربوں میں دستور تھا کہ جب ان میں سے کوئی شخص کسی کو اپنی پناہ میں لے لیتا تو پھر اس پر کوئی شخص ہاتھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔عام طور پر دستور یہ تھا کہ خانہ کعبہ کی مسجد میں جا کر اعلان کر دیا جاتا کہ میں فلاں کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔اس دستور کے مطابق وہ بھی خانہ کعبہ میں گیا اور اس نے اعلان کر دیا کہ عثمان آج سے میری پناہ میں ہے چنانچہ اس کے بعد وہ آرام سے زندگی بسر کرنے لگے اور کسی کو یہ جرات نہیں ہوتی تھی کہ ان پر ہاتھ اٹھائے۔ایک دن وہ بازار میں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے بعض غلام صحابہ کو دیکھا کہ ان کے پاؤں میں رسیاں بندھی ہوئی ہیں، لڑکے انہیں پتھروں پر گھسیٹ رہے ہیں، انہیں مارتے جارہے ہیں اور کہتے ہیں تم کہولات اور عربی بھی اپنے اندر خدائی صفات رکھتے ہیں اور محمد (صلی ال) نَعُوذُ بِالله جھوٹے مگر وہ اس کے جواب میں یہی کہتے اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَ