خطبات محمود (جلد 23) — Page 476
1942ء 476 خطبات محمود تو ان کے لئے فتح پانا بالکل نا ممکن ہو جائے گا چنانچہ انہوں نے بیگم کو پیغام بھجوایا کہ جس طرح بھی ہو سکے یہاں سے توپ اٹھوا دو۔ اس نے بادشاہ کو کہلا بھیجا کہ میں نے سنا ہے میرے محل کے سامنے توپ رکھی گئی ہے آپ اسے اٹھوا دیں ورنہ میں تو توپ کی آواز سے مر جاؤں گی۔ بادشاہ نے کہا یہ ایک فوجی سوال ہے اور اس تکلیف کو تمہیں برداشت کرنا چاہئے۔ اگر اس جگہ سے ہم انگریزوں پر گولہ باری نہیں کریں گے تو ہم کبھی فتح حاصل نہیں کر سکیں گے مگر وہ برابر اصرار کرتی رہی۔ آخر بادشاہ کے حکم سے فوجیوں نے توپ داغ دی، توپ کا داغنا ہی تھا کہ اس کی بیوی نے ہسٹیریا کا دورہ بنالیا اور شور مچانے لگ گئی کہ ہائے میں مر گئی ، ہائے میں مر گئی چونکہ بادشاہ بھی ایسا تھا جسے ملک اور قوم سے اتنی محبت نہیں تھی جتنی محبت اسے اپنی بیوی سے تھی اور اس کی طبیعت میں عیاشی پائی جاتی تھی۔ اس نے حکم دے دیا کہ میری بیوی کو تکلیف ہوتی ہے یہاں سے توپ اٹھالی جائے چنانچہ اسے اٹھا لیا گیا مگر نتیجہ کیا ہوا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بیٹے نے بادشاہ تو کیا بننا تھا، شہزادہ بھی نہ بنا اور آخر فقیروں کی موت مرا اور پھر اس کے بعد وہ قوم قریباً ایک سو سال ہونے کو آیا کہ اب تک انگریزوں کی غلام چلی آتی ہے۔ اس عرصہ میں ہم نے اپنی آنکھوں سے دہلی میں بعض پانی پلانے والے اور بعض حقہ پلانے والے لوگ دیکھے جن کے متعلق لوگوں نے بتایا کہ یہ شاہی خاندان میں سے ہیں۔ اگر وہ لوگ اپنی جانوں کی کوئی قیمت نہ سمجھتے تو یہ ذلت اور رسوائی کا دن دیکھنا انہیں کیوں نصیب ہوتا۔ یہ تو اس بیگم کا فریب تھا کہ میں مرنے لگی ہوں لیکن فرض کرو اگر وہ مر نے بھی لگتی اور کسی دوسری جگہ توپ رکھنے سے اس کی جان بچ سکتی تو اس کا فرض تھا کہ وہ بادشاہ کو کہلا بھیجتی کہ بادشاہ تم مجھے مر نے دو تاکہ قوم اور ملک زندہ ہو کیونکہ وہی قومیں دنیا میں زندگی پاتی ہیں جو اپنی جان کو حقیر سمجھتی ہیں۔ جس قوم میں زندگی کی قیمت آگئی اس قوم کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں رہتی مگر جو قوم موت کو معمولی بات سمجھتی ہے اس قوم کو ابدی حیات حاصل ہو جاتی ہے۔ در حقیقت حیات موت کے گلے ملنے سے ہی میسر آتی ہے۔ دنیا میں زندگی اور باعزت زندگی کا اور کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ انسان موت کو قبول کرلے ۔ جو لوگ موت قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ان کو اور ان کی اولادوں کو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جاتی ہے مگر جو اپنے