خطبات محمود (جلد 23) — Page 444
1942ء 444 خطبات محمود ہوتا تو تمہیں بتاتا کہ کس طرح قربانیاں کیا کرتے ہیں۔ اس وقت وہ محض تعلی سے کام نہیں لے رہے ہوتے تھے بلکہ اپنی بے تابی اور اضطراب کا اظہار کر رہے ہوتے تھے بے شک جنگ بدر کو اس صحابی نے کھو د نے کھو دیا مگر جنگ بدر بدر کے کھوئے۔ ئے جانے کا اسے اتنا شدید صدمہ ہوا کہ خدا کے نزدیک وہ بدری ہی سمجھا گیا۔ ان کی یہ مضحکہ خیز حرکت کہ لڑائی میں تو شامل نہ ہو سکے مگر جب واقعات سنتے تو گھبرا کر کہہ اٹھتے کہ میں اگر ہوتا تو اس سے بڑھ کر قربانیاں کرتا۔ یہ دکھاوا نہیں تھا بلکہ ایک کرب تھا، ایک درد تھا، ایک عاشق کی پکار تھی، ایک فریاد تھی خدا تعالیٰ کے حضور کہ اے خدا تو نے یہ موقع مجھے کیوں نہ دیا۔ یہی حالت جب عبادت کرنے والوں پر آتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ ان کے لئے بھی ویسا ہی ہو جاتا ہے اور انہیں بھی عمل سے بہت بڑھ کر ثواب دے دیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے بارہا یہ واقعہ سنا ہے کہ حضرت معاویہ ایک دفعہ صبح کی نماز کے لئے نہ اٹھ سکے اور سوئے رہے شاید اس رات کو وہ زیادہ دیر تک کام کرتے رہے تھے بہر حال صبح وقت پر ان کی آنکھ نہ کھلی اور نماز کا وقت ضائع ہو گیا۔ اس کا انہیں اتنا غم ہوا کہ سارا دن انہوں نے رو رو کر گزار دیا۔ بارہا انہیں خیال آتا کہ مجھ سے کس قدر کوتاہی ہوئی کہ میں نماز کے لئے وقت پر نہ اٹھ سکا اور بار بار اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے۔ دوسرے دن انہوں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ کوئی شخص انہیں نماز کے لئے جگا رہا ہے اور کہہ رہا ہے اٹھ اور نماز پڑھ ۔ وہ کشفی حالت میں ہی گھبرا کر اٹھے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک اجنبی ان کے کمرے میں کھڑا ہے۔ انہوں نے اس سے پوچھا تو کون ہے۔ وہ کہنے لگا میں ابلیس ہوں۔ کہنے لگے ابلیس! قرآن تو کہتا ہے کہ وہ نیکیوں سے روکتا ہے اور تو نماز باجماعت کے لئے مجھے جگانے آگیا۔ یہ کیا بات ہے ؟ اس نے کہا بات یہ ہے کہ کل میں نے تمہیں سلائے رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم ایک نماز وقت پر نہ پڑھ سکے مگر اس پر تم نے سارا دن اتنی ندامت کا اظہار کیا اور اس قدر روئے اور گڑ گڑائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے کہا کہ میرے اس بندے کو نماز ضائع ہونے کا بہت ہی صدمہ ہوا ہے اس کی نیکیوں کے خانہ میں ایک نماز کے ثواب کی بجائے سو نمازوں کا ثواب لکھ دو۔ میں نے سمجھا کہ اگر آج بھی تمہاری نماز رہ گئی تو تم رو رو کر اور سو نمازوں کا ثواب لے جاؤ گے۔