خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 44

1942ء 44 خطبات محمود مسلمانوں میں مشرکانہ عقائد قائم ہو جائیں اور روحانی طور پر آپ کا مشن مر جائے۔ یہ کہہ کر آپ مسجد میں آئے حضرت عمرؓ نے آپ کو بٹھانا چاہا مگر آپ نے جھٹکا دے کر ان کو پرے ہٹا دیا اور کھڑے ہو گئے اور یہ آیت پڑھی وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ آفَابِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ - 4 یعنی اے مسلمانو ! محمد صل الم ہمیں کتنے ہی محبوب تھے، کتنے ہی پیارے تھے۔ ہم آپ کے لئے جانیں دیتے تھے لیکن بہر حال وہ انسان تھے اور جس طرح آپ سے سے پہلے تمام رسول فوت ہو گئے آپ بھی فوت ہو گئے۔ پھر آپ نے زور سے فرمایا کہ بعض لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ آپ کی وفات نا ممکن ہے لیکن من كان يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوْتُ سه 5 جو تم میں سے محمد رسول اللہ صلی علی سلیم کو پوجتا تھا۔ میں اسے علی الاعلان سناتا ہوں کہ محمد (صلی الیم) فوت ہو گئے لیکن جو خدا تعالیٰ کی پوجا کرتا تھا اسے بتاتا ہوں کہ وہ زندہ ہے اور اس پر موت کبھی نہیں آسکتی۔ یہ وہ اعلان تھا جسے سن کر کسی کے دل میں بھی وہ وسوسہ باقی نہ رہا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارا خیال قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں نہیں ٹھہر سکتا۔ صا حضرت عمر جو تلوار لے کر کھڑے تھے کہ جو کہے گا آنحضرت صلی الیوم وفات پاگئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی کہ و مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - یعنی محمد (صلی الل ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جس طرح آپ سے پہلے تمام رسول فوت ہو گئے۔ آپ کے لئے بھی موت مقدر ہے۔ آفاین مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ کیا اگر آپ وفات پا جائیں یا قتل ہو جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ گویا یہ آیت قرآن کریم میں پہلے نہ تھی اور اب نئی نازل ہوئی ہے اور مجھے سمجھ آگئی کہ واقعی آپ فوت ہو گئے ہیں اور یہ خیال آتے ہی میری ٹانگیں کانپنے لگیں اور باوجود تلوار کا سہارا ہونے کے میں زمین پر گر گیا۔ تو یہ صحابہ کا ایک نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ کس قدر عشق ان کو رسول کریم صلی علم کی ذات سے تھا۔ کیا آج کے مسلمان اس کا کوئی نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ اس عشق کی مثال قومی لحاظ سے قطعاً کہیں نہیں ملتی۔ کیا شاندار وہ قربانیاں ہیں جو محمد مصطفیٰ صلی السلام کی خاطر ان لوگوں نے کیں۔ اس عشق کی