خطبات محمود (جلد 23) — Page 437
1942ء 437 خطبات محمود صدا اپنے کسی عزیز اور پیارے کی جدائی پر کرب اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو جب کسی کا محبوب اور پیارا جدا ہوتا ہے تو وہ کچھ دور تک اس کے ساتھ جانے کی کوشش کرتا ہے، کوئی سٹیشن تک چلا جاتا ہے، کوئی اڈے تک چلا جاتا ہے اور کوئی سفر کا بھی کوئی حصہ اس کے ساتھ طے کرتا ہے۔ یہی حال رمضان کی جدائی پر ایک مومن کا ہوتا ہے۔ اسی لئے جب رمضان کا مہینہ ختم ہو تا تھا تو رسول کریم صلی علیکم اگلے مہینے میں بھی چھ روزے رکھا کرتے تھے۔ کے یہ چھ روزے رکھنا کیا تھا ویسا ہی فعل تھا جیسے کوئی شخص کسی کو وداع کرنے کے لئے جاتا ہے۔ جب تمہارا کوئی دوست یا تمہار ابیٹا یا تمہارا بھائی یا تمہارا باپ تم سے جدا ہونے لگتا ہے اور خدا تعالیٰ تمہیں فرصت اور توفیق دیتا ہے تو تم میں سے کوئی انہیں کمرے کے دروازہ تک چھوڑنے چلے جاتے ہیں، کوئی سٹیشن تک چلے جاتے ہیں اور کوئی دو سٹیشن تک چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح محمد صلی علی یم رمضان کو چھ منزلیں چھوڑنے جایا کرتے تھے مگر آجکل بد قسمتی سے مسلمانوں کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ وہ رمضان کو کچھ دن پہلے ہی وداع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ رمضان کے ایام میں جو آخری جمعہ آتا ہے اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ جمعۃ الوداع ہے یعنی لوجی رخصت۔ ہماری طرف سے رمضان صاحب خواه دو دن باقی ہوں یا چار دن آپ ابھی سے رخصت ہیں حالانکہ آخری جمعہ کو جمعة الوداع کہنے والے اگر اس بات میں سچے ہوتے اور انہوں نے رمضان کے پہلے دنوں سے خوب فائدہ اٹھایا ہو تا تب بھی رمضان کو قبل از وقت الوداع کہنے کے باوجود انہیں بہت کچھ مل جاتا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ہے کہ جو جمعة الوداع کا دن ہوتا ہے ۔ ہے ۔ وہی ان کا رمضان کے استقبال کا بھی دن ہوتا ہے۔ بے شک روزے مسلمان رکھ لیتے ہیں مگر اول تو روزوں کی جو شرائط ہیں ان کو وہ پورا نہیں کرتے پھر رمضان کے دنوں میں بھی نماز وقت پر پابندی سے نہیں پڑھتے اور دعاؤں کے تو قریب بھی نہیں جاتے۔ ایسی صورت میں جمعۃ الوداع کا پورا نام در حقیقت جمعة الاستقبال والوداع ہوتا ہے۔ یعنی آج ہی ہم رمضان کو ملنے جاتے ہیں اور آج ہی اسے رخصت کرنے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے جو بعض دفعہ چوبیس پچیس دن گزرے ہوتے ہیں ان میں انہوں نے کوئی فائدہ اٹھایا نہیں ہوتا۔ اگر جمعہ کو عید ہو جائے اور تیس دن کار مضان کا مہینہ ہو تو رمضان کی 23 تاریخ کو جمعۃ الوداع ہوتا ہے اور اگر جمعہ کو