خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 434

1942ء 434 خطبات محمود الله ان کے پاس آجاتا تھا مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جس وقت خدا محمد صلی علیم کے پاس آ جاتا تھا اور آپ کو تسلی دیتا تھا کہ اے محمد (صلی الم تو گھبراتا کیوں ہے میں تیرے پاس ہوں۔ اس وقت ابو بکر کی آہ وزاری رائگاں جا رہی ہوتی تھی اور اللہ تعالیٰ کہتا تھا کہ محمد میرا معشوق ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے میں تیرے پاس کس طرح آجاؤں نہیں بلکہ وہی خدا ایک ہی خدا ہے۔ اس کا ایک اور ظہور اسی وقت ابو بکر کے پاس بھی بیٹھا ہو ا ہوتا تھا اور ابو بکر سے کہہ رہا ہوتا تھا کہ ابو بکر گھبراتا کیوں ہے، میں تیرے پاس ہوں اور جب ابو بکر گریہ وزاری کر کے اس کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا تو عمر بھی اپنے گھر میں اپنے ظرف کے مطابق چلا رہا ہوتا تھا اور کہتا تھا اے خدا میں تیرا قرب چاہتا ہوں۔ تم یہ مت خیال کرو اور در حقیقت ایسا خیال کرنا کفر ہے کہ خدا تعالیٰ اس وقت کہتا ہو گا عمر یہ کیسی نادانی ہے۔ محمد صلی العلیم کے ہوتے ہوئے ہوئے میں تیرے پاس کس طرح آ جاؤں ، پھر اس کے بعد ابو بکر کا مقام ہے ۔ ان دو کے ہوتے ہوئے میں تیرے پاس نہیں آسکتا۔ یہ جواب اللہ تعالیٰ عمر کو نہیں دیا کرتا تھا بلکہ اس وقت عمرؓ بھی اپنے ظرف کے مطابق ایک خدا کو اپنے پاس پاتا تھا جو اس سے یہ کہہ رہا ہوتا تھا کہ عمر میں تجھ سے محبت کرتا ہوں تو گھبراتا کیوں ہے۔ میں تو تیرے پاس ہی ہوں۔ پھر یہ سلسلہ اسی طرح درجہ بدرجہ چلتا چلا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ جاروب کش عورت جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی اور جس کے مرنے پر صحابہ نے اتنی ضرورت بھی نہ سمجھی کہ رسول کریم صلی الم کو احط ٹیم کو اطلاع دے دیں ۔ 4 جب وہ رات کو کھڑی ہوتی تھی اور اپنے محدود ایمان اور کمزور عقیدے اور تھوڑے سے علم کے باوجود خدا تعالیٰ کے حضور فریاد کرتی تھی کہ اے خدا اپنی محبت کی ایک چنگاری میرے قلب میں بھی سلگا دے اور مجھے بھی اپنے قرب میں جگہ عطا فرما اس وقت ایک خدا اس کی جھونپڑی میں بھی اترا ہوا ہوتا تھا اور اس بڑھیا کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا ہوتا تھا کہ اے بڑھیا روٹی کیوں ہے میں تو تیرے پاس ہوں۔ پس در حقیقت حضرت مجدد صاحب سرہندی کے اس شعر کا یہی مفہوم ہے کہ ہمارے خدا کا ایک ہاتھ نہیں بلکہ اس خدا کے اتنے ہی ہاتھ ہیں جتنے ہاتھ اس کی طرف محبت اور پیار کے ساتھ بڑھتے ہیں۔ اگر کسی وقت دس ہاتھ نہایت اشتیاق کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف بڑھتے ہیں تو اس کے بھی دس ہاتھ بن جاتے ہیں اور اگر