خطبات محمود (جلد 23) — Page 43
1942ء 43 خطبات محمود رض کہ جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! ہم تو آپ کی وجہ سے خاموش تھے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ جواب دو کہ اللهُ أَعْلَی وَ اَجَل یعنی تمہارے ھبل کی کیا حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بلند اور سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ 2 دیکھو کس طرح اپنی اور اپنے صحابہ کی موت کا اعلان تو برداشت کر لیا مگر جب خدا تعالیٰ کا نام آیا تو اس وقت آپ نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ ہم تھوڑے ہیں۔ اگر دشمن کو رض پتہ لگ گیا تو وہ حملہ کر کے نقصان پہنچائے گا بلکہ صحابہؓ سے فرمایا کہ جواب دو۔ تو نسبت کو قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی ہم نے شرک کے خلاف صحابہ میں ایسا جذبہ پیدا کر دیا صد الله سلم میرم رض تھا کہ وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ جب آپ کی وفات ہوئی تو بعض صحابہ نے خیال کیا کہ آپؐ کی وفات بے وقت ہوئی ہے۔ بعض نے خیال کیا کہ آپ ابھی زندہ ہیں، آسمان پر گئے ہیں اور پھر آئیں گے اور یہ خیالات اتنی طاقت پکڑ گئے تھے کہ کسی کو جرات نہ ہوتی تھی کہ ان کی تردید کرے حتی کہ جن کے حواس قائم تھے وہ بھی اس کی تردید نہ کر سکتے تھے۔ حضرت ابو بکر مدینہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل رسول کریم صلی اللی ام کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تھی۔ اس لئے آپ کسی کام کے لئے باہر چلے گئے۔ بعض صحابہ نے آپ کی طرف آدمی بھیجا۔ آپ کو اطلاع ہوئی تو فوراً واپس آئے۔ اس وقت ایسی حالت تھی کہ حضرت عمر تلوار لے کر کھڑے تھے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول کریم صلی الیم فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ آپ بہت جو شیلے آدمی تھے اور مسجد میں یہ کہہ رہے تھے کہ اگر کسی نے کہا کہ آنحضرت صلی العلیم کی وفات ہو گئی ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ 3 حضرت عمر کو آنحضرت صلی العلیم سے جو عشق تھا اسے مد نظر رکھتے ہوئے ان کی یہ حالت سمجھ میں آسکتی ہے۔ حضرت ابو بکر جب تشریف لائے تو حضرت عائشہ کے گھر میں جو آپ کی بیٹی تھیں چلے گئے۔ آنحضرت صلی علی ایم کی لاش بھی وہیں پڑی تھی۔ آپ نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیارسول کریم فوت ہو گئے ؟ انہوں نے کہا ہاں فوت ہو گئے ہیں۔ آپ خاموشی سے جسم اطہر کے پاس پہنچے، سر سے کپڑا اٹھایا، پیشانی کو بوسہ دیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا یعنی ایک تو آپ جسمانی طور پر فوت ہو گئے ہیں اب یہ نہیں ہو گا کہ ی صلى العلم