خطبات محمود (جلد 23) — Page 42
1942ء 42 خطبات محمود رض صحابہ نے آپ کو لاشوں کے نیچے سے نکالا اور جوں جوں مسلمانوں کو علم ہو تا گیا وہ آپ کے گرد جمع ہوتے گئے مگر پھر بھی ان کی تعداد تھوڑی تھی۔ رسول کریم صلی الیم ان کو ساتھ لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔ ابو سفیان نے بڑے تکبر سے آواز دی کہ مسلمانو ! کہاں ہے تمہارا محمد ؟ (صلی الیم) ہم نے اسے مار دیا۔ صحابہ جواب دینا چاہتے تھے مگر آپ نے روک دیا۔ کفار کو خیال تھا کہ مسلمانوں کے سب لیڈر مارے گئے ہیں۔ اس لئے ابو سفیان نے پھر آواز دی۔ کہاں ہے ابو بکر ؟ ہے تو بولے ۔ صحابہ پھر جواب دینا چاہتے تھے مگر آپ نے روک دیا۔ پھر اس نے کہا کہ کہاں ہے عمرؓ ؟ ہے تو جواب دے۔ حضرت عمر تو کہنا چاہتے تھے کہ میں تمہارا سر توڑنے کے لئے یہاں موجود ہوں مگر آپؐ نے فرمایا۔ مت بولو۔ دشمن کو کیوں اپنی اطلاع دیں۔ دراصل ابو سفیان کی غرض یہی تھی کہ مسلمانوں کی خبر معلوم کرے اور پتہ لگائے کہ کون کون زندہ ہے اور کون کون نہیں اور وہ اپنے خیال کو یقین سے بدلنا چاہتا تھا۔ آجکل بھی جنگ میں ایسی خبریں مشہور ہوتی رہتی ہیں جن کی غرض صرف اطلاع حاصل کرنا ہوتی ہے مثلاً مشہور کر دیتے ہیں کہ فلاں جرنیل پکڑا گیا ہے یا فلاں جہاز ڈوب گیا ہے اور جرنیل یا جہاز جس حکومت کا ہوتا ہے وہ خاموش رہتی ہے اس وقت تردید نہیں کرتی۔ بعد میں کسی وقت اس کی تردید کر دیتی ہے۔ ایسی غلط خبر مشہور کرنے سے دشمن کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ معلومات حاصل کرے۔ کفار کی غرض بھی یہی تھی۔ اس لئے آ اس لئے آنحضرت صلی الم نے منع فرما دیا کہ دشمن کو پتہ دے کر کیوں حملہ کرواتے ہو۔ جب مسلمانوں کی خاموشی سے ابو سفیان نے سمجھ لیا کہ س رض زور آنحضرت صلی الل رت صلی اللہ یم، حضرت ابو بکر اور رت ابو بکر اور حضرت عمر سب کو ہم نے مار دیا ہے تو اس نے بڑے سے اپنا مشرکانہ نعرہ بلند کیا اور کہا اُعْلُ هُبَل، اُعْلُ هُبَل یعنی ہمارا ھبل دیوتا بڑی شان والا ہے مسلمان بھلا اس کے مقابل پر کب ٹھہر سکتے تھے۔ یہ بات سن کر آنحضرت صلی علی ایم نے جو اپنی موت کا اعلان سن کر اور اپنے صحابہ کی موت کا اعلان سن کر خاموش تھے اور اپنے صحابہ کو بھی جواب دینے سے روک رہے تھے۔ صحابہ سے فرمایا کہ جواب کیوں نہیں دیتے۔ چونکہ پہلے کئی بار آنحضرت صلی علیم صحابہ موروک چکے تھے۔ اس وجہ سے صحابہ خیال کرتے تھے کہ شاید ہمیں بولنے کا حکم نہیں اس لئے خاموش تھے مگر جب ابو سفیان نے کہا اُعْلُ هُبل تو آپؐ نے فرمایا