خطبات محمود (جلد 23) — Page 415
1942ء 415 خطبات محمود مگر خدا تعالیٰ کی قدر تیں غیر محدود ہیں اور اس کی باریک مصلحتوں کو انسان کہاں سمجھ سکتا ہے۔ وہ چاہے تو استثنائی صورتیں بھی ہو سکتی ہیں اور لَيْلَةُ الْقَدْر پہلی راتوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ فرض کرو۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی نیک بندہ لَيْلَةُ الْقَدْر سے فائدہ اٹھانا چاہتا اور دعائیں کرنا چاہتا ہے تا اس کے عزیزوں، دوستوں، رشتہ داروں اس کے مذہب و قوم اور ملک و ملت کو فائدہ پہنچے مگر رمضان میں اسے سفر پیش آجاتا ہے۔ فرض کرو اس نے سات یا آٹھ روزے رکھے اور پھر اسے سفر پیش آگیا اور سفر میں روزہ وہ رکھ نہیں سکے گا۔ اس لئے وہ ساتویں یا آٹھویں رات کو ہی کہتا ہے کہ آج کی رات کا اٹھنا آخری اٹھنا ہے۔ آخری عشرہ میں روزوں کی دعاؤں کا تو مجھے موقع مل نہیں سکے گا۔ میرے لئے آج کی رات ہی روزوں کی آخری رات ہے۔ آج خوب دعائیں کر لیں اور وہ خوب گڑ گڑا کر اور رو رو کر دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دے دیتا ہے کہ میرا یہ بندہ مجھے اتنا پیارا ہے کہ اس کی دعا مجھے دنیا کی دعاؤں سے زیادہ محبوب ہے۔ اس لئے آٹھویں یا ساتویں رات کو ہی لَيْلَةُ الْقَدْر بنا دو۔ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو خاص طور پر قبول کرنے اور اسے دعاؤں کا خاص موقع دینے کے لئے ساتویں یا آٹھویں رات کو ہی لَيْلَةُ الْقَدْر بنا سکتا ہے۔ اسی رمضان کی ساتویں یا آٹھویں رات کا واقعہ ہے۔ اسی کی وجہ سے میرے مُنہ سے مثالا بھی ساتویں یا آٹھویں رات ہی نکلا کہ میں نماز فجر کے لئے مسجد میں آیا تو عبد الاحد خان صاحب افغان نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے آج لَيْلَةُ الْقَدْر تھی۔ میں نے کہا کیوں تو انہوں نے کہا کہ رات بارش بھی تھی اور بجلی بھی چمکتی رہی ہے۔ میں نے ان کی اس بات کو یوں ہی ہنسی میں ٹال دیا اور کہا کہ اگر لَيْلَةُ الْقَدْر کی یہی علامت ہوتی ہے تو آئندہ دو چار سال کے بعد رمضان برسات کے موسم میں آئے گا تو پھر تو ہر شب ہی لَيْلَةُ الْقَدْر ہوا کرے گی۔ لیکن جب میں گھر واپس آیا تو میری توجہ اس امر کی طرف پھری کہ اس رات جو دعائیں میں نے مانگیں یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ الہامی دعائیں ہیں، غیر معمولی باتیں اور امور میرے ذہن میں آتے گئے اور میں گھنٹوں دعائیں مانگتا رہا اور پھر بھی وہ ختم ہونے میں نہ آتی تھیں اور ایسی ایسی ضرورتوں کے متعلق بھی دعائیں تھیں کہ جو پہلے ذہن میں نہ تھیں اور یہ یاد کر کے میں نے کہا