خطبات محمود (جلد 23) — Page 413
* 1942 413 خطبات محمود لَيْلَةُ الْقَدْر آخری دس راتوں میں تھی۔یہ کہ وہ ہمیشہ آخری دس راتوں میں ہی ہوا کرے گی یہ اس حدیث سے ثابت نہیں۔ہاں بعض اور ایسی باتیں ہیں جو کم سے کم اس بات کے سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ لَيْلَةُ القذرا اکثر اوقات آخری عشرہ میں ہی ہوا کرتی ہو گی یا ہونی چاہئے۔اور ایک بات ان میں سے یہ ہے کہ ہر عظمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ انسانی عمل کا آخری حصہ زیادہ جاذب فضل ہوتا ہے مثلاً ایک شخص کسی سے تعلق اور محبت پیدا کرنے کے لئے اس کی خدمت کرتا ہے اور پانچ یا دس مواقع اس کی خدمت کے حاصل کر لیتا ہے تو ہر موقع اس کے ساتھ مخدوم کی محبت کو بڑھانے کا موجب ہو گا۔پہلی خدمت بھی اس کے دل پر اثر کرے گی لیکن دوسری خدمت اور بھی زیادہ کرے گی کیونکہ دوسری خدمت اپنی ذات میں بھی اثر کرے گی اور ساتھ پہلی خدمت کو بھی یاد دلائے گی۔وہ خیال کرے گا کہ اس شخص نے میری خدمت کی ہے اور پھر یہ پہلی خدمت نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ایک بار اس نے میری خدمت کی ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ تیسری خدمت کے نتیجہ میں مخدوم کے دل میں اس کی محبت اور بھی بڑھ جائے گی اس لئے کہ وہ سوچے گا کہ اس شخص نے میری خدمت کی ہے اور پھر یہ پہلی خدمت نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی دو بار یہ میری خدمت کر چکا ہے۔فلاں موقع پر بھی اس نے میری خدمت کی تھی اور اس کے بعد پھر فلاں موقع پر بھی کی تھی اور اس طرح اس کے دل میں اور بھی زیادہ محبت کا جذبہ پیدا ہو گا۔اسی طرح چو تھی خدمت پہلی تین خدمات کو بھی یاد دلائے گی اور اس طرح متواتر خدمات سے مخدوم کو اس سے محبت بڑھتی جائے گی۔اسی نقطہ نگاہ سے اگر رمضان کو دیکھیں کہ گو پہلا روزہ انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میرا یہ بندہ آج میرے لئے بھوکا اور پیاسا ہے لیکن دوسر اروزہ اور بھی زیادہ قرب کا موجب ہو جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ آج ہی میرے لئے بھوکا اور پیاسا نہیں بلکہ کل بھی تھا، یہ آج ہی رات کو نہیں اٹھا کل بھی اٹھا تھا اور جب تیسر اروزہ آئے گا تو یہ تعلق اور بھی بڑھے گا اور جب چوتھا روزہ آئے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا کہ میرا یہ بندہ آج بھی بھوکا ہے، آج بھی یہ رات کو اٹھا ہے، آج بھی اس نے دعائیں کی ہیں مگر آج ہی نہیں، کل بھی، پرسوں بھی اور ترسوں بھی یہ میرے لئے بھوکا رہا تھا، راتوں کو اٹھا تھا اور دعائیں کی تھیں۔اور اس طرح