خطبات محمود (جلد 23) — Page 404
1942ء 404 31 خطبات محمود ہماری جماعت کے ہر شخص کا فرض ہے کہ ان ایام میں راتوں کو اٹھے اور دعائیں کرے (فرمودہ 25 ستمبر 1942ء) تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ رمضان اور دعا کا ایک خاص تعلق ہے اور میں آج اس سلسلہ میں بعض باتیں بیان کرنا چاہتا تھا لیکن میری طبیعت آج خراب ہے اور صبح سے سوزشِ امعاء کی تکلیف معلوم ہو رہی ہے۔ اس وجہ سے میں زیادہ نہیں بول سکتا۔ صرف جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی توجہ دلائی ہے اور پھر آپ کے بعد جماعت کے خلفاء کی طرف سے بھی اور جماعت کے علماء کی طرف سے بھی یہ بات واضح کی جاتی رہی ہے۔ رمضان کے ایام دعاؤں کی قبولیت کے لئے خصوصیت رکھتے ہیں اور ان ایام میں مومنوں کی دعائیں بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ اسلام نے یہ اصل تسلیم کیا ہے کہ جس امر پر جماعت کی کثرت متفق ہو اور اس کی اکثریت کی آواز اس کے ساتھ شامل ہو۔ اللہ تعالیٰ بھی اسے وقعت دیتا ہے اور جماعت کی کثرت کی آواز کو اپنی ہی آواز قرار دیتا ہے۔ خلافت کو ہی دیکھ لو۔ جس شخص کو مومنوں کی جماعت کی اکثریت خلافت کے لئے منتخب کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنا منتخب کردہ خلیفہ قرار دیتا اور اس طرح جماعت کی کثرت کی آواز کو اپنی ہی آواز سمجھتا ہے۔ رسول کریم صلی العلیم بھی فرماتے ہیں مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَلَيْسَ مِنَّا 1