خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 399

* 1942 399 خطبات محمود قانون عام کے طور پر تو اس نے قرآن کریم میں تحریک کر ہی دی ہوئی ہے۔چنانچہ اس نے فرمایا ہے کہ میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں جو سوال کرنا پسند نہیں کرتے۔2 لیکن دوسرے مومنوں کو چاہئے کہ ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کی زبان پر اگر تو کل کا قفل لگا ہو تا ہے تو کیا تمہاری آنکھیں بھی نہیں ہیں کہ تم دیکھ سکو۔یہ تحریک عام ہے۔ادھر تو کل کی وجہ سے ایک مومن کی زبان بند ہوتی ہے تو دوسروں کو حکم دیا ہے کہ آنکھیں کھولو اور ان کا خیال رکھو۔ایسا نہ ہو کہ میرے بندے بھوکے رہیں۔حضرت ابو ہریرۃ بھی متوکلین میں سے تھے۔وہ مسجد نبوی میں بیٹھے رہتے تھے اس خیال سے کہ رسول کریم صلی ا یکم جو بات کریں وہ ئن سکیں اور کوئی بات رہ نہ جائے۔وہ چونکہ بعد میں ایمان لائے تھے اس لئے چاہتے تھے کہ آنحضرت صلی ال کی کم سے زیادہ سے زیادہ باتیں سن سکیں اور اس وجہ سے کئی کئی وقت کا فاقہ ان پر آ جاتا تھا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کئی روز کا فاقہ تھا اور کھانے کو کچھ نہ مل سکا۔میں مسجد کے دروازہ پر کھڑا ہو گیا کہ شاید کسی کو میری حالت دیکھ کر کھانے کو کچھ دینے کا خیال آجائے الله اور جب دیکھوں کہ رسول کریم صلی ا یکم باہر تشریف لائے ہیں تو فوراً حاضر بھی ہو سکوں۔وہ کہتے ہیں میں وہاں کھڑا رہا۔اتنے میں حضرت ابو بکر گزرے اور میں نے ان سے ایک آیت کی تفسیر پوچھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی خدمت کرنی چاہئے۔حضرت ابو بکر نے اس کی تفسیر بیان کی اور آگے چل دیئے۔حضرت ابو ہریرہ بڑے ناز سے کہتے ہیں کہ او نہ۔گویا ابو بکر مجھ سے زیادہ تفسیر جانتے تھے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ گزرے۔ان سے بھی میں نے وہی سوال کیا اور وہ بھی اس آیت کی تفسیر بیان کر کے آگے چلے گئے۔حضرت ابو ہریرہ پھر بڑے ناز سے کہتے ہیں کہ او نہ۔گویا عمر نے سمجھا کہ اسے مجھ سے زیادہ معنے آتے ہیں۔میں بھوک کی شدت سے بے چین ہو رہا تھا مگر کسی سے مانگنا نہ چاہتا تھا کہ اتنے میں ایک نہایت شیریں اور پیار سے بھری ہوئی آواز آئی جو کہہ رہی تھی کہ ابو ہریرہ تم بھوکے ہو۔میں نے مڑ کر دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ ہم اپنے دروازہ کے آگے کھڑے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ابو بکر اور عمرؓ سے آپ نے آیت کی تفسیر پوچھی اور وہ اصل بات نہ سمجھ سکے مگر آنحضرت صلی ال نیم کے کان میں گھر کے اندر آواز پڑی اور آپ نے پہچان لیا