خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 398

* 1942 398 خطبات محمود انہوں نے دل میں کہا یہ تو نا قابل برداشت ہے اور اتنے دن فاقہ سے نہیں رہا جاسکتا۔چنانچہ وہ گاؤں کی طرف چل پڑے وہاں پہنچ کر اپنے کسی واقف یا دوست سے کہا کہ اس طرح میں تین روز سے بھوکا ہوں تمہارے پاس اگر زائد کھانا ہو تو مجھے کچھ دے دو۔اس نے تین روٹیاں اور کچھ سالن دیا جسے وہ لے کر جنگل کی طرف چل پڑے۔جس شخص نے ان کو روٹیاں دیں اس کا ایک کتا تھا۔جب یہ روٹی لے کر چلے تو وہ بھی پیچھے پیچھے ہو لیا۔جب وہ کچھ دور تک ساتھ گیا تو اس بزرگ کو خیال آیا کہ واقعی اس کا بھی حصہ ہے اور ایک روٹی اور تیسر احصہ سالن کا اس کے آگے ڈال دیا اور خود آگے چل پڑے۔کتے نے وہ جلدی جلدی کھا لیا اور پھر پیچھے پیچھے ہو لیا اس بزرگ نے کہا کہ اس کا حق زیادہ ہے یہ ہر وقت اپنے مالک کے دروازہ پر پڑا رہتا ہے اور میں تو صرف دوستانہ حق کی وجہ سے مانگنے کے لئے آ گیا تھا اور ایک اور روٹی اور آدھا سالن اسے ڈال دیا جو اس نے کھالیا۔اور پھر پیچھے پیچھے چل پڑا اور ساتھ ساتھ بھونکتا بھی جائے۔اس پر اس بزرگ نے کتے کو مخاطب کر کے کہا کہ تو بڑا بے حیا ہے میں نے دو روٹیاں اور دو حصہ سالن تجھے دے دیا مگر تو پھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔اس پر ان پر فوراً کشف کی حالت طاری ہو گئی اور کتے نے ان سے باتیں شروع کر دیں (کشف کی حالت میں گنتے بھی انسان سے باتیں کر لیتے ہیں بلکہ ہر چیز کر لیتی ہے ) اس کتے نے کشفی حالت میں اس بزرگ سے کہا کہ بے حیا میں ہوں یا آپ۔مجھے اپنے مالک کے دروازہ پر سات سات دن کے فاقے آئے ہیں مگر میں نے کبھی اس کے دروازہ کو نہیں چھوڑا حالانکہ مجھے وہاں سے روٹی ملتی بھی ہے تو بہت کم اور بچی کھچی۔مگر تمہیں تمہارا خدا روزانہ اچھے اچھے کھانے بھجواتا رہا ہے اور صرف تین روز فاقے آئے اور تم بھاگے بندوں کی طرف۔یہ سن کر انہیں بہت ندامت ہوئی اور تیسری روٹی اور سالن بھی کہتے کے آگے ڈال کر استغفار کرتے ہوئے اپنی جگہ پر واپس گئے۔جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کئی لوگ وہاں کھانا لئے بیٹھے ہیں۔انہیں دیکھتے ہی وہ لوگ تین روز تک کھانا نہ لا سکنے کے لئے معذر تیں کرنے لگے۔کوئی کہتا کہ میرا بچہ بیمار ہو گیا تھا اس لئے نہ آسکا، کسی نے کوئی عذر پیش کیا اور کسی نے کوئی۔تو جن کو اللہ تعالیٰ پر صحیح تو کل ہو ، ان کے لئے اللہ تعالیٰ خود بخود بندوں کے دلوں میں تحریک کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس بارہ میں دو قانون ہیں۔ایک عام اور ایک خاص۔