خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 378

1942ء 378 خطبات محمود کی شکل دیکھی ہوتی تو وہ اس کے فریب میں نہ آتا۔ دنیا میں تم نے جس شخص کو اچھی طرح دیکھا ہوا ہوتا ہے تم اس کے متعلق کسی فریب میں نہیں آسکتے اور اگر دھوکا کے طور پر کسی اور شخص کے متعلق تمہیں کوئی کہے کہ و کہے کہ وہ فلاں شخص ہے تو تم فوراً کہہ دیتے ہو کہ میں اسے خوب جانتا ہوں یہ شخص وہ نہیں کوئی اور ہے۔ اسی طرح نماز ایک تصویر ہے جسے ہر مسلمان کے سامنے دن رات میں پانچ دفعہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس تصویر کو اچھی طرح ذہن نشین کر لے۔ پس در حقیقت نماز ایک تصویر یا ایک چھلکے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اور تصویر اور اصل میں گو ظاہری لحاظ سے مشابہت ہوتی ہے مگر حقیقی خواص میں مشابہت نہیں ہوتی۔ رستم کی تصویر ہو تو اسے ایک بچہ بھی پھاڑ سکتا ہے مگر رستم کو پہلوان بھی گرا نہیں سکتا۔ اسی طرح شیر کی تصویر ہو تو اسے ایک چوہا بھی کھا سکتا ہے مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ اصل شیر کو چوہا کھا سکتا ہے۔ پس تصویر اور اصل میں صرف ظاہری طور پر مشابہت پائی جاتی ہے حقیقی طور پر نہیں۔ اس لئے نماز بوجہ تصویر ہونے کے صرف ایک ظاہر ہے باطن اس کا اور ہے اور وہ باطن اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا قرب ہے یعنی انسان اللہ تعالیٰ کی محبت میں اس قدر ترقی کرے کہ اسے اپنی روحانی آنکھوں سے خدا تعالیٰ نظر آنے لگ جائے یا کم سے کم اس کے دل میں یہ یقین پیدا ہو جائے کہ میر اخدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی الم نے ایک موقع پر فرمایا کہ عبادت کیا ہے ؟ عبادت یہ ہے کہ تو ایسا سمجھے کہ گویا خدا تجھ کو نظر آ رہا ہے اور اگر تجھے یہ مقام میسر نہیں تو تیرے اندر کم سے کم یہ یقین ہونا چاہئے کہ میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ 4 رہا ہے۔ یہ کیفیت جو رسول کریم صلی علیم نے بتائی کہ نماز پڑھتے وقت کم سے کم تمہیں یہ یقین ہونا چاہئے کہ تمہارا خدا تمہیں دیکھ رہا ہے یہ تصویری زبان میں پہلا روحانی قدم ہے جو اٹھنا چاہئے کہ ہر شخص کم سے کم ایسے مقام پر ہو کہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہو تو اسے یقین ہو کہ کوئی خدا ہے جو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر واقع میں کوئی رب ہے، رحمان ہے ، رحیم ہے، مَالِكِ يَوْمِ الدِّين ہے، تمام عبادات کا مستحق ہے ، اعلیٰ ہے ، سبحان ہے، اکبر ہے ، تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ہم اس کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ پس جب وہ تصویری زبان میں نماز پڑھ رہا ہو تو کم سے کم اس کے دل میں اس بات پر پختہ یقین ہونا چاہئے کہ اس کا خدا اسے دیکھ رہا ہے۔اس کے بعد جب محبت الہی