خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 375

1942ء 375 29 خطبات محمود خدام الاحمدیہ کے متعلق ضروری ارشادات فرموده 11 ستمبر 1942ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج کا خطبہ میں خدام الاحمدیہ کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔ خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ تھی کہ نوجوانوں میں دینی روح پیدا کی جائے اور ان کے قلوب میں دین کے لئے اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ چونکہ ہر باطن کا ایک ظاہر ہوتا ہے اور ہر مغز کے لئے ایک چھلکا اس کی حفاظت کے لئے ضروری ہوتا ہے اس لئے بعض قوانین ایسے مقرر کئے گئے جن کا منشاء یہ تھا کہ وہ مغز جو اس تحریک کے چلانے کا اصل مقصد ہے، محفوظ رہے۔ مگر ہو سکتا ہے بعض لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس کے چھلکے کو ہی اصل مغز سمجھ لیں اور اس کے ظاہر کو ہی باطن خیال کر کے اس وہم میں مبتلا ہو جائیں کہ جو کام ان کے سپرد کیا گیا تھا اس کو انہوں نے پورا کر لیا ہے اور اس قسم کے دھو کے طبعی طور پر انسان کو لگتے ہی رہتے ہیں۔ نماز کو ہی لے لو۔ نماز ایک چھلکا ہے۔ ایک ظاہر ہے اس باطن اور اس مغز کا جو خدا اپنے بندوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ نماز کیا ہے ؟ اس میں الفاظ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تصویر کھینچ کر بندے کے سامنے رکھ دی گئی ہے اور اس تصویر کو سامنے لا کر خیالی طور پر بندہ اپنے خدا سے باتیں کرتا ہے۔ جب وہ کہتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۔ تو اس وقت خدا تو اس کے سامنے نہیں ہوتا۔ وہ ہزاروں پر دوں بلکہ ان گنت پر دوں میں چھپا ہوا اس کی نظروں سے پوشیدہ ہوتا ہے مگر چونکہ اس نے لفظی تصویر خدا تعالیٰ کی کھینچ لی ہوتی ہے اس لئے اس کے لئے جائز ہو جاتا ہے کہ وہ نماز میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہے۔ یہ تصویر اس کے