خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 369

* 1942 369 خطبات محمود کو نہیں چھوڑے گا تو باوجودیکہ تو ہمارا اکلوتا ہے اور ہمیں تمہارے ساتھ اس قدر محبت ہے ہم تمہارے گھر میں آنے کے روادار نہیں۔یہ سن کر بیٹے نے کہا کہ اچھا پھر میرا آخری سلام ہے، میں آئندہ نہیں آؤں گا۔2 تو اس ظلم اور اس سختی کی وجہ کیا تھی۔مسلمان اہل مکہ پر کوئی سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی ظلم نہ کرتے تھے۔ان کا قصور تھا تو صرف اتنا کہ وہ علیحد گی میں اپنے رب کی عبادت کرتے تھے۔حضرت مسیح ناصری کس سیاسی اور اقتصادی برتری کے مدعی تھے۔وہ چند ایک مچھلیاں پکڑنے والوں کو علیحدہ لے جا کر خدا کی تعلیم دیتے تھے مگر انہیں کس قدر مصائب میں مبتلا کیا گیا۔ان پر مقدمات بنائے گئے ، عدالتوں میں گھسیٹا گیا، ان کو صلیب پر لٹکایا گیا اور اپنی طرف سے دشمنوں نے انہیں قتل ہی کر کے دم لیا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صلیب پر نہ مرنے دیا۔پس ہماری جماعت کا یہ خیال کر لینا کہ وہ امن پسند ہیں اور مذہبی جماعت ہیں اس لئے ان پر یہ فتنے نہ آئیں گے۔بالکل غلط خیال ہے۔تمہارے امن پسند ہونے کی وجہ سے دشمن تم پر حملہ کرنے سے رک نہیں سکتا۔صرف ایک چیز ہے جو اسے حملہ سے روک سکتی ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کوئی مومن ایسا بے غیرت ہو سکتا ہے کہ اسے اختیار کرے اور وہ منافقت ہے۔صرف منافقت تمہیں دشمن کے حملہ سے بچا سکتی ہے، امن پسندی نہیں۔اور کیا کوئی مومن ہے جو یہ گوارا کر سکے کہ وہ دشمن کے حملہ سے امن میں رہے گو ایمان ہاتھ سے جاتا رہے۔خوب یاد رکھو کہ امن تمہیں اس صورت میں مل سکتا ہے کہ جب تم منافقت قبول کر لو اور اگر اسے اختیار نہ کیا جائے تو امن میں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ہم خواہ ساری دنیا کو امن دینے پر کیوں نہ تلے ہوئے ہوں اور دنیا کی ذلیل سے ذلیل خدمت کرنے پر کیوں نہ آمادہ ہوں اور زیادہ سے زیادہ قربانی دنیا کے لئے کیوں نہ کریں۔ہماری قربانیاں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللی علم سے نہیں بڑھ سکتیں اور ان سے زیادہ خدمت خلق نہیں کر سکتے اور جب ان کو بھی تکالیف دی گئیں ، مارا گیا اور قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں تو ہم کس طرح امن میں رہ سکتے ہیں۔اگر دنیا ہمیں امن سے رہنے دے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ہمارے اندر منافقت ہے۔پس ہمیں اپنے نفسوں کو ٹٹولتے رہنا چاہئے