خطبات محمود (جلد 23) — Page 347
1942ء 347 خطبات محمود غرض ایک نقطہ نگاہ سے یعنی اوپر سے نیچے کی طرف دیکھنے سے دنیا میں امن اور نیکی قائم ہو جاتے ہیں اور دوسرے نقطہ نگاہ سے فساد اور بدی کا بیج بویا جاتا ہے۔ اس نظارہ کی مثال رسول کریم صلی الم نے یوں بیان فرمائی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سب سے دوزخ سے ہٹا کر آخر میں دوزخ سے نکالے گا مگر اس کا منہ دوزخ کی طرف ہی رہنے دے گا۔ تو وہ عرض کرے گا کہ اے اے مہ میرے خدا تو نے مجھے دوزخ سے نکالا اب تو اتنا کرم فرما کہ میرا منہ دوز جنت کی طرف کر دے۔ چنانچہ اس کا منہ دوزخ سے ہٹا کر جنت کی طرف کر دیا جائے گا اور وہ بھیانک نظارے جنہیں دیکھ کر اسے دکھ ہوتا تھا جاتے رہیں گے اور وہ جنت کو دیکھ کر آرام حاصل کرے گا۔ 3 یہی حال نقطہ نگاہ کے بدلنے سے ہوتا ہے۔ ایک شخص انہی حالات میں اسی زمانہ میں انہی طاقتوں کے ساتھ اگر اس کا نقطہ نگاہ یہ ہو کہ ہم کمزور ہیں ، ہم کیا کر سکتے ہیں دوزخ میں پڑ جاتا ہے اور وہی شخص انہی حالات میں انہی سامانوں سے اگر اس کا نقطہ نگاہ یہ ہو کہ مجھ سے کم سامانوں والے یا کم صحت والے اور لوگ بھی ہیں، مجھے ان سے بڑھ کر نیکی سے کام لینا چاہئے اور ان کا بوجھ بھی اٹھانا چاہئے جنت میں چلا جاتا ہے۔ مذہب ہر ایک سے قربانی چاہتا ہے۔ بڑا اپنی جگہ اور اپنے رنگ میں قربانی کرتا ہے، چھوٹا اپنی جگہ اپنے رنگ میں قربانی کرتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام کو دیکھ لو بعض کے پاس مال تھا انہوں نے مال سے قربانی کی۔ بعض کے پاس تھوڑا تھا وہ تھوڑا لے آئے۔ جن کے پاس کچھ بھی نہ تھا وہ ہاتھ سے خدمت کرتے تھے۔ حضرت نبی کریم صلی علیه یم نے چندے کی تحریک کی ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سا مال تھا وہ سارا لے آئے اور حضرت عمرؓ اپنا آدھا مال لے آئے اور سمجھتے تھے کہ آج قربانی میں میں حضرت ابو بکر سے سبقت لے جاؤں گا مگر جب حضرت نبی کریم صلی الی یوم الم نے حضرت ابو بکر سے پوچھا کہ ابو بکر گھر میں کیا چھوڑ آئے تو انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو نصف مال لائے تھے اپنے دل میں شرمندہ ہوئے کہ میں تو نصف مال لایا ہوں میں کس طرح سبقت لے جا سکتا ہوں۔ ایک شخص کے پاس کچھ بھی نہ تھا اس نے بازار میں جاکر مزدوری کی۔ اسے مٹھی بھر جو ملے وہ وہی جو لے کر آیا اور حضرت نبی کریم صلی الیم الله س صا علیروم