خطبات محمود (جلد 23) — Page 344
$1942 344 خطبات محمود ها وقت ایمان تھا اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ تھا جن کے دل میں دعا کراتے وقت بھی نیک خواہش نہیں ہوتی بلکہ وہ اس وقت بھی خدا سے ٹھگی کر رہے ہوتے ہیں۔اس ایمان کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر اس کے دل میں ندامت پیدا ہوئی اور وہ زکوۃ لایا۔رسول کریم صلی الیم نے فرمایا کہ تم نے جو کہنا تھاوہ کہہ دیا۔اب تمہاری زکوۃ قبول نہ کی جائے گی۔وہ شخص اپنا مال لے کر واپس چلا گیا پھر دوسرے سال لایا اس وقت بھی رسول کریم صلی علیم نے یہی جواب دیا۔چنانچہ ہر سال وہ نبی کریم صلی اللہ نیلم کے زمانہ میں زکوۃ لا تا مگر اسے واپس کر دیا جاتا۔ادھر اس کے مال کے اندر اس قدر برکت ہوتی چلی گئی کہ روایت ہے کہ وہ یہاں تک مال لا تاکہ صرف زکوۃ کے جانوروں سے میدان بھر جاتاحتی کہ رسول کریم صلی کم کا زمانہ گزر گیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا۔پھر وہ شخص زکوۃ لایا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس کی زکوۃ محمد رسول اللہ صلی علی یم نے قبول نہیں کی، میں اس کی زکوۃ کیونکر قبول کر سکتا ہوں۔وہ شخص روتا ہوا چلا گیا پھر اگلے سال آیا چنانچہ ہر سال وہ آتا اور روتا ہوا چلا جاتا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس کی نیت ٹھیک تھی مگر ایمان اس قدر مضبوط نہ تھا کہ اس افسر کے مطالبہ کے وقت وہ ذاتی کمزوری کا مقابلہ کر سکتا۔یہی حال بعض انسانوں کا ہے کہ پہلے وہ خواہش کرتے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کے فضلوں کے پہاڑ پر جانا میسر ہو اور وہ ان میں جائے اور ٹھنڈ حاصل کرے اور آرام پائے، وہاں کے ٹھنڈے پانی پئے اور سبزہ زاروں سے آنکھوں کو طراوت پہنچائے لیکن جب وہ اس کی خواہش کر رہا ہوتا ہے تو اس کے اندر کوئی کمزوری بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی چٹانیں وطن کی واپسی کے راستہ پر گر جاتی ہیں اور اسے بند کر دیتی ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی ملاقات کا راستہ اور خدا تعالیٰ کے قرب کا مقام ہی مومن کا اصل وطن ہے ، بند ہو جاتا ہے اور انسان دنیوی آرام کا عارضی مقام تو پالیتا ہے لیکن اصل وطن یعنی قرب الہی کی طرف لوٹنے کا کوئی سامان اس کے پاس نہیں رہتا۔اس خرابی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو جو نعمتیں ملتی ہیں خواہ بڑی ہوں یا چھوٹی انسان اکثر ان کے بارہ میں غور کرتے ہوئے اپنے سے اوپر کے درجہ والوں کی طرف دیکھتا ہے نیچے والوں کو نہیں دیکھتا مثلاً اگر ایک شخص کے پاس ایک وقت کی روٹی موجود ہے تو وہ بجائے اس کے کہ نیچے کی طرف دیکھے یعنی