خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 332

* 1942 332 خطبات محمود فوجیں بڑے زور سے ایشیا میں داخل ہو رہی ہیں اور بحیرہ اخضر (Caspian Sea) کی طرف جو ایران کی سرحد پر ہے، بڑھتی چلی آتی ہیں۔جس کے بعد ہندوستان اور جرمن فوجوں کے درمیان ایران اور افغانستان کی ناتربیت یافتہ فوجوں کے تھوڑے تھوڑے رسالوں وغیرہ کے سوا کچھ نہیں۔خود اس ملک کی یہ حالت ہے کہ اس کی اکثریت یہ مشورے کر رہی ہے کہ حکومت کو بالکل معطل کر دیا جائے۔وہ اس امر پر غور کر رہی ہے کہ ملک میں عام تعطل کی حالت پیدا ہو جائے۔مزدور اپنا کام چھوڑ دیں، ریلیں چلانے والے کام بند کر دیں، ڈاک کے محکمہ میں کام کرنے والے ہڑتال کر دیں اور تار کے محکمہ میں کام کرنے والے تاریں لینا اور پہنچانا چھوڑ دیں۔دکاندار سودے بیچنا چھوڑ دیں اور ملک میں ایسا تعطل پیدا ہو جائے کہ جو شخص جہاں ہے وہیں رہ جائے اور کسی کو دوسرے کی کوئی خبر نہ مل سکے اور گورنمنٹ ایک عضو معطل کی طرح ہو کر رہ جائے۔1919ء میں جس وقت گاندھی جی نے گورنمنٹ کے خلاف پہلی کارروائی شروع کی تھی اس وقت وہ نئے نئے ہندوستان میں آئے تھے مگر جن لوگوں کے دلوں میں ان ایام کی یاد ابھی تازہ ہے وہ جانتے ہیں کہ اس وقت باوجودیکہ کانگرس کا نظام مکمل نہیں ہوا تھا ایسے دور افتادہ علاقوں میں بھی جن کا تعلیم یافتہ طبقہ سے تعلق نہ تھا یہ نعطل بغاوت کی صورت اختیار کر گیا تھا۔اب تو قادیان میں ریل آگئی ہے، گو پھر بھی یہ جگہ دنیا سے بہت دور ہے اور اس وقت تو یہاں ریل بھی نہ آئی تھی اور یہ مقام سیاسی دنیا سے بالکل منقطع تھا مگر اس وقت بھی باوجود اس کے کہ اس کے ارد گرد کے علاقہ کے لوگ سیاسیات کا نام بھی نہ جانتے تھے۔چاروں طرف کے دیہات سے یہی آواز آرہی تھی کہ اب انگریز گئے ، اب ہماری حکومت قائم ہو جائے گی۔لوگوں نے گھروں میں ہتھیار جمع کرنے شروع کر دیئے تھے اور پستول چلانے کی مشقیں کرنے لگے تھے۔چنانچہ ایک گاؤں سے جو قادیان سے صرف ایک دو میل کے فاصلہ پر ہے بعد میں پستول پکڑے بھی گئے تھے اور ایسے درخت پائے گئے تھے جن پر سکھ لوگ پستول چلانے کی مشق کیا کرتے تھے اور تمام پنجاب میں لوٹ مار شروع ہو گئی تھی اور لوگوں کو جہاں کہیں کوئی اکاڈ کا انگریز یا سرکاری افسر ملتا اسے مار دیتے تھے یا مارنے کی کوشش کرتے تھے۔لوگوں نے