خطبات محمود (جلد 23) — Page 329
$1942 329 خطبات محمود معلوم ہوتی ہے مگر در حقیقت سب کی ترقی کا ذریعہ ہے اور اس کا فائدہ کسی ایک فرد کو نہیں بلکہ تمام قوم کو پہنچتا ہے۔ہمارے قادیان میں صرف چند احمدی تاجر ہیں لیکن اگر یہاں اس طریق کو جاری کیا جائے تو میر اخیال ہے ان میں سے کئی بُرا منائیں گے اور کہیں گے کہ ہمارا نقصان کر دیا گیا ہے حالانکہ اگر کل ان کی اپنی حالت خراب ہو تو اسی قانون سے وہ خود بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بہر حال انہوں نے بتایا کہ اس دستور کی وجہ سے ہماری قوم گرتی نہیں بلکہ جب بھی کسی کو تجارت میں خسارہ ہوتا ہے۔باقی قوم کے افراد کسی ایک چیز کے متعلق فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہ فروخت کر کے نفع نہیں اٹھائیں گے بلکہ اصل قیمت پر اپنے بھائی کے پاس فروخت کر دیں گے تا کہ نفع سے وہ اپنی حالت کو بہتر بنا سکے۔اس طرح نہ صرف ان کا بھائی ترقی کر جاتا ہے بلکہ ان کو بھی کوئی نقصان نہیں ہوتا کیونکہ اور بیسیوں چیزیں ان کی دکان پر فروخت کرنے کے لئے موجود ہوتی ہیں۔تو اخلاق اور اسلامی تعلیم پر عمل شروع میں کڑوا معلوم ہوتا ہے مگر ان چیزوں کا نتیجہ بڑا میٹھا ہوتا ہے۔پس میں اپنی جماعت کے نوجوانوں کو نصیحت کرتاہوں کہ وہ اپنے اخلاق میں تغیر پیدا کریں اور اپنی جوانی کو اسلام کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کریں۔اگر آج وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں گے ، اپنے اخلاق کو درست کریں گے اور اپنی جوانی کے ایام کو اسلامی تعلیم کے ماتحت بسر کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کا بڑھاپا نہایت خوبصورت ہو گا اور وہ اپنی عمر کے آخری ایام اللہ تعالیٰ کی عبات میں پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ گزار سکیں گے لیکن اگر آج انہوں نے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھا اور اپنی جوانی کے ایام اسلام کے خلاف عمل کرتے ہوئے بسر کر دیئے تو اُن کا بڑھاپا ان کے لئے عبادت کا وقت نہیں ہو گا بلکہ وہ شیطان کی جنگ میں ہی اپنی عمر کے آخری ایام ضائع کر دیں گے۔انسان جوانی میں کئی قسم کی حرکات کر بیٹھتا ہے جن پر بڑھاپے میں اسے افسوس آتا ہے اور کہتا ہے۔کاش میں ایسا نہ کرتا مگر اس وقت عادتیں پڑ چکی ہوتی ہیں اور انسان باوجود کوشش اور خواہش کے ان عادتوں کو نہیں چھوڑ سکتا۔وہ دیکھتا ہے کہ موت قریب آتی جارہی ہے، عمر گھٹتی جارہی ہے۔زندگی کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں مگر ادھر اسے نظر آتا ہے کہ فلاں بدی میرے اندر