خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 327

* 1942 327 خطبات محمود مفید چیزیں ہیں اور ان پر عمل کرنا دنیا میں امن کے قیام کے لئے ضروری ہوتا ہے۔یہ ایک غلط خیال ہے جو بعض لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے کہ اگر ہم ان تعلیموں پر عمل کریں تو ہمارا یہ حرج ہو گا ہمارا وہ حرج ہو گا۔یہ سب آنکھ کا دھوکا ہوتا ہے اگر خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق عمل کیا جائے تو اس قسم کی تکلیف جو دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے برداشت کی جائے۔انسان کے لئے راحت کا موجب بن جاتی ہے اور ایسا شخص جو اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کو آرام پہنچانا سجھتا ہو۔اسے جب خود کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو تمام لوگ اس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں اور انہیں اس وقت تک اطمینان نہیں آتا۔جب تک اس کی تکلیف کو دور نہ کر لیں۔ہم نے دیکھا ہے جن قوموں میں قربانی کی روح ہوتی ہے وہ ایسا ہی کرتی ہے اور اپنے بھائیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کے ایثار سے کام لینے کے لئے تیار رہتی ہیں۔ہمارے بعض دوست ایک دفعہ بمبئی گئے اور وہ تبلیغ کے لئے بعض بوہرہ قوم کے تاجروں سے ملے تو دورانِ گفتگو میں ہمارے دوستوں نے ان سے دریافت کیا کہ اس کی وجہ کیا ہے کہ آپ کی قوم کے سب لوگوں کی مالی حالت اچھی ہے اور کسی کی تجارت گری ہوئی نظر نہیں آتی۔انہوں نے بتایا کہ ہم میں سے جب کسی شخص کی تجارت گر جاتی اور اس کی مالی حالت سخت کمزور ہو جاتی ہے تو ہمارے ہاں دستور یہ ہے کہ وہ ہماری پنچایت میں درخواست دیتا ہے کہ میری تجارت گر گئی ہے اور پنچایت والے کوئی ایک چیز فروخت کرنے کے لئے اسے دے دینے کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔مثلاً دیا سلائی بظاہر ایک چھوٹی سی چیز ہے مگر پنچایت فیصلہ کر دے گی کہ تمام دیا سلائیاں اسے دے دی جائیں چنانچہ ہم میں سے جن جن تاجروں کے پاس دیا سلائیاں ہوں گی، وہ اسے دے دیں گے اور کہیں گے کہ اتنی قیمت میں ہم نے دیا سلائی فروخت کرنی تھی تم اس سے زیادہ قیمت پر دیا سلائیاں فروخت کر کے اصل قیمت ہمیں دے دینا اور نفع خود رکھ لینا۔اس فیصلہ کے مطابق تمام قوم اسے دیا سلائیاں دے دیتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد دکان پر جب گاہک آتا ہے اور کہتا ہے کہ دیا سلائی چاہئے تو دکاندار جواب دے دیتا ہے کہ دیا سلائی تو ختم ہو چکی ہے آپ کو اگر ملے گی تو فلاں سیٹھ کی دکان سے