خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 310

* 1942 310 خطبات محمود سے ایسے انعامات کا وعدہ ہے کہ جن کا اندازہ بھی عقل انسانی نہیں لگا سکتی اور جن کی مثال کسی دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔انسان ان کو جان ہی نہیں سکتا۔فرمایا اگر کفار بغیر کسی امید اور مقصد کے اور بغیر کسی انعام کے وعدہ کے یہ مصائب اور مشکلات برداشت کرتے اور قربانیاں کرتے ہیں تو تم کو جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے انعامات کے وعدے ہیں ان قربانیوں کے کرنے میں کیا ہچکچاہٹ ہو سکتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی ایم کی جنگوں میں ایک طرف ابو جہل اپنے گھر سے نکلا اور یہ جانتے ہوئے نکلا کہ لڑائی میں انسان مارا بھی جاتا ہے ، یہ جانتے ہوئے نکلا کہ لڑائی میں انسان ایسا زخمی بھی ہو سکتا ہے کہ ساری عمر اس کی چار پائی پر پڑے پڑے ہی کٹ جائے، یہ جانتے ہوئے نکلا کہ لڑائی میں انسان شدید زخمی ہو کر نا قابل برداشت درد میں مبتلا ہو سکتا ہے اور یہ جانتے ہوئے نکلا کہ لڑائی میں انسان قیدی بھی بن سکتا ہے اور باوجودیکہ وہ اپنی قوم کا سردار ہو اسے معمولی لوگوں کی غلامی بھی کرنی پڑتی ہے۔پھر یہ جانتے ہوئے گھر سے نکلا کہ لڑائی میں انسان شکست بھی کھا جاتا ہے اور اسے اپنی قوم میں جو عزت اور سر داری حاصل ہے اسے کھو بیٹھتا ہے۔یہ سب کچھ جانتے ہوئے ابو جہل گھر سے لڑائی کے لئے نکلا۔ان صورتوں کے ساتھ ایک فتح کی صورت میں اسے کیا امید ہو سکتی تھی ؟ سوائے اس کے کہ سرداری ذرا اور پکی ہو جائے اور کچھ عرصہ کے لئے دل خوش ہو جائے کہ میں نے اپنے دشمنوں کو مار دیا یا ان کو شکست دے دی۔مگر ان باقی صورتوں میں جو میں نے بیان کی ہیں اس کے لئے کیا امید ہو سکتی تھی۔اگر وہ مر جاتا تو اسے کس بدلہ کی امید ہو سکتی تھی، ساری عمر کے لئے نکما ہو جانے کی صورت میں اسے کس انعام کی امید ہو سکتی تھی، غلام ہو جانے کی صورت میں اسے کس خوشی کی توقع ہو سکتی تھی۔اس کے مقابلہ میں حضرت ابو بکر بھی مدینہ سے لڑائی کے لئے نکلے کہ انسان لڑائی میں مارا بھی جاتا ہے، یہ جانتے ہوئے نکلے کہ انسان لڑائی میں ایسا زخمی بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے ناکارہ ہو جائے، یہ جانتے ہوئے نکلے کہ لڑائی میں انسان شدید زخمی بھی ہو سکتا ہے اور اس طرح مدتوں کے لئے وہ تکلیف کا شکار ہو سکتا ہے ، یہ جانتے ہوئے نکلے کہ لڑائی میں انسان غلام بھی بن جاتا ہے اور اس طرح اسے دوسروں کی خدمت کرنی پڑتی ہے۔