خطبات محمود (جلد 23) — Page 305
خطبات محمود 305 * 1942 اسے یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان الفاظ کے ذریعہ لوگوں کو دھوکا دیا ہے جیسے بعض دفعہ جب کوئی شخص خاص طور پر اچھا کھانا کھانا چاہتا ہو تو دوسروں سے کہہ دیتا ہے کہ میرے گھر میں تو دال دلیا پکا ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ سن کر چلے جائیں تو بعد میں وہ اکیلا اس کھانے کو کھا جائے۔ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ ایک عورت سخت بخیل تھی وہ اپنے لئے تو خوب گھی ڈال کر کھچڑی پکا لیتی مگر بچوں کے آگے روکھی سوکھی روٹی رکھ دیتی۔پہنچے کہتے کہ ماں تو بھی ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو جا تو وہ کہہ دیتی ماں پے چلھے وچ تسیں تے کھاؤ۔یعنی ماں چولہے میں پڑے، روٹی تو صرف تمہارے لئے ہے تم کھاؤ اور مجھے بھوکا ہی رہنے دو۔وہ سمجھتے کہ ماں ہماری خاطر روکھی سوکھی روٹی بھی نہیں کھاتی اور جو کچھ ملتا ہے ہمیں کھلا دیتی ہے۔اس طرح وہ ماں کے بہت ممنون رہتے مگر ایک دن ایک چالاک لڑکا کہنے لگا میں یہ بات مان نہیں سکتا کہ ہماری ماں روزانہ فاقے کیا کرتی ہے۔ایک دن فاقہ ہو سکتا ہے، دو دن فاقہ ہو سکتا ہے، تین دن فاقہ ہو سکتا ہے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہماری ماں کبھی کھانا ہی نہ کھائے۔آخر اسے خیال آیا کہ ہماری اماں جو روز کہتی ہے کہ ماں بیٹے چُلھے وچ۔تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ چولہے میں کیا ہوتا ہے۔چنانچہ اس نے چولہے کی راکھ جو ہٹائی تو نیچے سے ایک قلفی 2 نکلی۔اس کا ڈھکنا اس نے کھول کر دیکھا تو اس میں کچھچڑی رکھی ہوئی تھی اور اس میں خوب بھی پڑا ہوا تھا۔چنانچہ سب بچوں نے مل کر وہ کھچڑی کھالی جب کھانے کا وقت آیا اور ان کی والدہ نے ان کے سامنے اپنی عادت کے مطابق روکھی سوکھی روٹی رکھ دی تو بچے کہنے لگے ماں آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھائیں۔وہ کہنے لگی پیت ماں پٹے چُلھے وچ۔وہ کہنے لگے ماں چُلھے وہے دے بھروسے تے نہ رہیں۔آج چُلھے وچ پت پئے گئے ہن۔یعنی چولہے کے بھروسے پر نہ بیٹھی رہنا وہ چو لہے والی چیز آج ہم کھاگئے ہیں۔اگر اسی کے بھروسہ ر بیٹھی رہو گی تو یہ روکھی سوکھی روٹی بھی نہیں ملے گی۔پس یا تو نَعُوذُ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا تھا کہ میرے راستہ میں بڑے بڑے ہولناک جنگل اور پر خار باد یہ در پیش ہیں جن لوگوں کے نازک پیر ہیں اور ان کانٹوں کو وہ برداشت نہیں کر سکتے وہ مجھ سے الگ ہو جائیں۔اس وقت آپ کا یہ مطلب تھا کہ