خطبات محمود (جلد 23) — Page 302
* 1942 302 خطبات محمود شامل ہونا چاہئے اس لئے بھی کہ وطن کا حق ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے جان دی جائے اور اس لئے بھی کہ اس کے اندر جرات اور بہادری پیدا ہو اور جب شیطان کی جنگ خدا تعالیٰ کی فوج کے ساتھ ہو تو اس وقت وہ اس جنگ میں خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان کو قربان کرنے والا ہو۔جو شخص آج اپنے آپ کو اس رنگ میں تیار نہیں کرتا، جو شخص آج اپنے نفس کی اس طرح تربیت نہیں کرتا، جو شخص آج اپنے اندر یہ جرات اور دلیری پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کل اس پر کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔وہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جائے گا اور اس کی زبان کے دعوے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کا اکثر حصہ ایسا ہی ہو گا۔چنانچہ پچھلے خطبہ کے بعد ہی جب میں اپنے گھر گیا تو مجھے نہایت ہی تعجب ہو ویسا ہی تعجب جیسے عبد الرحمان بن عوف کو اس وقت ہوا تھا جب ان کے پہلو میں ایک انصاری لڑکے نے کہنی مار کر کہا تھا کہ چچا وہ ابو جہل کو نسا ہے جو رسول کریم صلی علیم کو دکھ دیا کرتا تھا میر اجی چاہتا ہے کہ آج اس کو مار ڈالوں۔مجھے بھی اس روز ویسا ہی تعجب ہوا۔میں خطبہ کے بعد گھر میں گیا تو ایک لڑکی جو نئی بیاہی ہوئی ہے اور جس کا ابھی رخصتانہ بھی نہیں ہوا اور جو شہر کی رہنے والی ہے۔زمینداروں میں سے نہیں جنہیں لڑائی کی عادت ہوتی ہے بلکہ ایک ایسے خاندان میں سے ہے جس میں شاید صدیوں میں بھی کوئی سپاہی نہ ہوا ہو۔پھر وہ ایک ایسے شہر کی رہنے والی ہے جو تعیش اور آرام کے سامانوں کے لحاظ سے ہندوستان میں مشہور ہے، ایسے شہر کی، اس قسم کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی لڑکی جس کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے اور جس کا رخصتانہ بھی نہیں ہوا۔میرے پاس آئی اور کہنے گی میں نے اپنے ابا کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں۔میں حیران ہوا کہ اس کے ابا تو بوڑھے ہیں اس نے اپنے باپ کو یہ کیا لکھا کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں چنانچہ میں نے اس سے کہا۔بی بی میں تمہاری بات کو نہیں سمجھا، تمہارے باپ تو بوڑھے ہیں وہ فوج میں کس طرح بھرتی ہو سکتے ہیں ؟ پھر اس نے شرمائی ہوئی آواز سے کہا میں نے اپنے ابا کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دے دیں۔میں نے سمجھا کہ شاید اس نے یہ لکھا ہے کہ مجھے فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ میں نے پھر کہا کہ لڑکیاں تو