خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 301

1942ء 301 خطبات محمود کے سامانوں کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کرنا اور اسی کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جانا، کیا یہ کوئی معمولی بات ہے۔ جب تک دنیا خدا تعالیٰ کے عذابوں سے ہلا نہیں دی جائے گی اس وقت تک قلوب میں یہ تغیر پیدا نہیں ہو سکتا اور خدا آج کل اسی غرض کے لئے زمین کو ہلا رہا اور بار بار لوگوں کو جھنجوڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ہمیں بھی بیدار کر رہا ہے تا کہ ہم بھی قربانی کی روح اپنے اندر پیدا کریں اور بزدلی کو ترک کر کے جرات اور بہادری سے کام لیں۔ پس ہم پر یہ خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ اس انقلاب کے ذریعہ ہماری جماعت کے اندر قربانی کی روح پیدا کر رہا ہے۔ ہر احمدی جو اس انقلاب سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ در حقیقت اپنے آپ کو اس جنگ کے لئے تیار کرتا ہے جو روحانی طور پر دوسرے مذاہب سے احمدیت کو پیش آنے والی ہے۔ تم مت سمجھو کہ احمدیت کی فتح اسی طرح ہو گی کہ ایک احمدی یہاں سے ہوا اور ایک وہاں سے۔ یہ تو ویسی ہی جنگ ہے جیسے بڑی جنگ سے پہلے ہر اول دستوں سے چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہو جایا کرتی ہیں، ان معمولی ہر اول دستوں کی جنگوں کو بڑی جنگ سمجھنا غلطی ہے۔ دن ایسا ضرور آئے گا جب احمدیت کو دوسرے تمام مذاہب کے مقابلہ میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑے گا۔ تب دنیا کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا اور تب دنیا کو معلوم ہو گا کہ کونسامذہب اس کی نجات کے لئے ضروری ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ تلوار کی جنگ ہو گی مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ مضبوط دلوں کی جنگ ہو گی اور دلوں کی مضبوطی اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک انسان خطرات میں اپنے آپ کو ڈالنے۔ آپ کو ڈالنے کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔ پس ہر جگہ : ں ہر جگہ جہاں کوئی شخص ڈوب رہا ہو وہاں ایک احمدی کو سب سے پہلے گودنا چاہئے اس لئے بھی کہ وہ مسلمان یا سکھ یا عیسائی یا ہندو اس کا ایک بھائی ہے جس کو بچانا اس کا فرض ہے اور اس لئے بھی کہ اس کے اندر جرات اور بہادری پیدا ہو۔ ہر جگہ جہاں آگ لگ گئی ہو وہاں ایک احمدی کو اس آگ کے بجھانے کے لئے سب سے پہلے پہنچنا چاہئے۔ اس لئے بھی کہ جس کے گھر کو آگ لگی ہے وہ خواہ مسلمان ہے یا ہندو ہے یا سکھ ہے یا عیسائی ہے ، بہر حال اس کا ایک بھائی ہے اور اس لئے بھی کہ اس کے نفس کو آگ میں کودنے کی مشق ہو اور جرات اور دلیری اس کے اندر پیدا ہو۔ اسی طرح ہر جنگ جو وطن کی حفاظت کے لئے لڑی جائے اس میں ایک احمدی کو سب سے پہلے ایک