خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 299

* 1942 299 خطبات محمود یہ دعا کی کہ اے میرے اللہ ! میں نے اپنے تینوں بچے جو میری ساری عمر کی پونجی تھے۔تیرے دین کے لئے قربان ہونے کو بھیج دیئے ہیں۔اب ان کا کوئی رکھوالا نہیں اور وہ تینوں اس اقرار کے ساتھ گئے ہیں کہ ہم مر جائیں گے یا فتح پا کر واپس لوٹیں گے۔اے خدا تجھ سے میں التجا کرتی ہوں کہ تو ان کا رکھوالا ہو اور ان کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ شام تک لشکر اسلام کو فتح بھی نصیب ہو گئی اور اس کے بچے بھی زندہ میدان جنگ سے واپس آگئے۔تو دیکھو وہ ایک عورت تھی مگر اس کے دل میں یقین اور ایمان تھا اور وہ جانتی تھی کہ اگر میرے بچے ذلت سے زندہ رہے تو یہ میرے لئے بھی ذلت کا موجب ہو گا اور ان کے لئے بھی ذلت کا موجب ہو گا لیکن اگر یہ عزت کے ساتھ مر گئے تو یہ مریں گے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جائیں گے اور اگر عزت اور کامیابی اور فتح کے ساتھ واپس آگئے تب بھی وہ تعریف کے قابل سمجھے جائیں گے۔غرض یہ قربانی کی روح ہی تھی جس نے مسلمانوں کو دلیر اور بہادر بنا دیا اور جس کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر پر خوش تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر خد اتعالیٰ نے جنگ میں ہمارے لئے موت مقدر کی ہوئی ہے تو ہم عزت کی موت مریں گے اور اگر فتح مقدر کی ہوئی ہے تو ہم عزت کے ساتھ فتح پا کر واپس لوٹیں گے۔یہی وجہ تھی کہ إِلَّا مَا شَاءَ اللہ ہر میدان میں ان کا نقصان بہت کم ہوتا تھا اور دشمن کا نقصان بہت زیادہ ہو تا تھا۔وہ چونکہ خدا تعالیٰ کی تقدیر پر خوش ہو گئے تھے اس لئے آسمان سے فرشتے ان کی مدد کے لئے نازل کئے جاتے تھے سوائے ان لوگوں کے جن کے لئے شہادت کی موت مقدر ہو چکی تھی اور وہ اس بات میں اتنے بے پرواہ ہو چکے تھے کہ انہیں اپنے عزیز سے عزیز رشتہ دار پر بھی خدا تعالیٰ کی خاطر تلوار چلانے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی تھی۔مجھے ہمیشہ ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اس بات کا لطف آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ رسول کریم صلی لیلی کیم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ باتوں باتوں میں بدر کی جنگ کا ذکر آگیا۔ان کے بڑے لڑکے پہلے کفار کے دین پر تھے اور بدر کی جنگ میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔بعد میں وہ رسول کریم صلی للی کمر پر ایمان لے آئے تھے۔وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ ابا جان فلاں موقع پر آپ فلاں پتھر کے پاس سے الله سة