خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 293

1942ء 293 خطبات محمود ملنے کے لئے آیا اور اس نے آکر کہا کہ مرزا صاحب کو اطلاع دی جائے کہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے خود یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ اس وقت کو ٹھے پر تھے جب انہیں اطلاع ہوئی تو وہ ملاقات کے لئے نیچے اترے، پیچھے پیچھے وہ تھے اور آگے آگے ان کے بیٹے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دادا تھے۔ گویا بیٹا پہلے اتر رہا تھا اور ان کے پیچھے ان کے والد چلے آ رہے تھے جو بہت بڑے بزرگ ہوئے ہیں حتی کہ میں نے خود سکھوں سے سنا ہے کہ لڑائی میں انہیں گولی ماری جاتی تھی تو گولی ان پر اثر نہیں کرتی تھی۔ جب وہ نصف سیڑھیوں پر پہنچے تو نیچے سے انہیں آواز آئی سکھ رئیس ان کے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا واہ گورو جی کا خالصہ اس پر ان کے بیٹے نے بھی اسی رنگ میں جواب دے دیا کہ واہ گورو جی کا خالصہ ۔ انہوں نے جب اپنے بیٹے کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھتے ہوئے وہیں سیڑھیوں سے واپس لوٹ گئے اور فرمانے لگے سردار صاحب سے کہہ دو کہ میری طبیعت خراب ہو گئی ہے میں ان سے مل نہیں سکتا۔ پھر اپنے بیٹے کا ذکر کر کے فرمانے لگے کہ اس کے زمانہ میں ہماری ریاست جاتی رہے گی کیونکہ جس شخص کے اندر اتنی بے غیرتی پیدا ہو گئی ہے کہ اس نے اسلامی شعار کو اختیار نہیں کیا اور جب ایک سکھ نے واہ گورو جی کا خالصہ کہا تو اس نے بھی واہ گوروجی کا خالصہ کہہ دیاوہ ریاست کو کبھی سنبھال نہیں سکے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اب دیکھو ان کے اندر غیرت تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اتنے فقرہ کو بھی برداشت نہ کیا مگر دتی کے بادشاہ متواتر چٹھیوں کے جواب میں یہی لکھتے چلے گئے کہ شاباش تم خوب کام کر رہے ہو ، ہم بھی آنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر کسی کو اتنی توفیق نہ ملی کہ اپنے اس ارادہ کو پورا کر کے دکھاتا۔ مت ۔ تو یہ حالت جب بھی کسی قوم میں پیدا ہو جاتی ہے وہ ذلیل ہو جاتی ہے، اس کی عزت جاتی ہے ، اس کا غلبہ جاتا رہتا ہے اور وہ تمام دنیا کی نگاہ میں حقیر ہو جاتی ہے لیکن جب کسی قوم میں غیرت پائی جاتی ہو تو وہ اس قسم کی ذلت کو بھی کبھی برداشت نہیں کیا کرتی۔ صحابہ کو دیکھو ان میں کسی قسم کا جوش پایا جاتا تھا اور یہ جوش صرف مردوں میں ہی نہیں تھا بلکہ عورتوں